خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد 15 339 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء یعنی احتمال کے طور پر بھی کوئی گندہ پروگرام اس چینل پر سنائی نہیں دے سکتا ، دکھائی نہیں دے سکتا۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب تحویل قبلہ کیا گیا تو اس کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ جن کے نفس بیمار ہیں وہ الگ ہو جائیں، وہ ننگے ہو جائیں، وہ پہچانے جائیں۔ وہ جو اخلاص میں کامل ہیں جن کو اللہ کی توحید سے ا سے اور محمد رسول الله لا رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے ان کے لئے قبلے کی تبدیلی ذرا بھی گراں الله نہیں گزرتی کیونکہ اصل مقصد کے ساتھ وابستہ رہتے اور چمٹے رہتے ہیں۔ ان کو تکلیف ہوتی ہے جن کے مقاصد کے حصول میں فرق پڑ جاتا ہے۔ پس یہ وہ مضمون تھا جو میرے ذہن میں آیا جس کے لئے مجھے قرآن کریم کی آیات کی تلاش تھی تو حج کی جو آیات ہیں وہ بعینہ اس مضمون پر چسپاں ہوتی دکھائی دیں۔ فرمایا ہے رجس سے اوثان پیدا ہوتے ہیں۔ گندگی سے بت بنتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت جو اطلاعیں پاکستان سے مجھے ملی ہیں اس سے نہایت ہی خوفناک تصویر اس بات کی ابھری ہے کہ لوگ گندگی میں مبتلا ہو کر ٹیلی ویژن کے ذرائع کو ایسے نا پاک استعمال میں لے آئے ہیں کہ جس کے نتیجے میں گھر گھر میں گندگی داخل ہو گئی ہے اور گھر گھر میں بت داخل ہو گئے ہیں۔ اس کے متعلق ایک پاکستانی رسالے نے جو اعداد وشمار شائع کئے ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ وہ لکھتے ہیں اس وقت سیٹلائٹ پر موجود کم و بیش 136 چینلوں کو مختلف ڈشوں سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں 136 چینلز کو مختلف ڈشوں سے دیکھا جاتا ہے جن میں صرف انڈیا کے 36 چینلز ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کے 17 ، برطانیہ کے 9 ، فرانس کے 5 اور چین کے 17 چینل شامل ہیں۔ ایک ہفتے میں سات چینلوں کے ذریعے جس کا انہوں نے حساب کیا ننانوے (99) بھارتی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ ایک ہفتے میں ننانوے فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور بھارتی فلمیں جو دکھائی جاتی ہیں سراسر گند سے بھری ہوتی ہیں۔ اوپر سے نیچے تک نہ صرف گندی بلکہ کھوکھلی اور روز مرہ کے مذاق کو تباہ و برباد کر دینے والی ۔ نہ ادب کا کچھ رہنے دیتی ہیں، نہ شعریت کا کچھ باقی رہنے دیتی ہیں۔ محض بے ہودہ، گندگی اور پھر ایسے تو ہمات میں مبتلا کرنے والی ہیں جن کا توحید کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں بلکہ ان تو ہمات کے ساتھ توحید مٹنے لگتی ہے۔ یعنی جب وہ تو ہمات دل پر قبضہ کریں تو ایسا رجس ہے، ایسی ناپا کی آ جاتی ہے جس کے ساتھ توحید پھر اکٹھی رہ نہیں سکتی تو توحید اپنے ڈیرے ان دلوں سے اٹھا لیتی ہے۔