خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد 15 337 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء کی رسائی بھی ہے۔ مگر ان کی پاکیزگی صرف بدنی پاکیزگی نہیں بلکہ روحانی معنوں میں بھی ان کو پاکیزگی نصیب ہونی چاہئے ۔ وہ صرف اس طرح ہو سکتی ہے کہ ان کو پیش کرتے ہوئے غیر اللہ کا کوئی تصور نہ آئے اور خالصہ اللہ ، نہ کہ امام کے نام پر ، ان کو ذبح کیا جائے ۔اس سے جو رجس کی انتہائی بدترین صورت ہے یعنی شرک وہ ناپا کی جس سے پاک کرنے کے لئے خانہ کعبہ بنایا گیا وہ ناپا کی تم سے دور ہو جائے گی ۔ اگر تم اپنی کھانے کی چیزیں بھی پاک کرو گے اپنے بدن کو بھی پاک کرو گے اور اپنی روح کو ہر قسم کی گندگی سے پاک کرو گے جس کی انتہا شرک ہے اور شرک کہنے کے بعد فرمایا وَ قَوْلَ الزُّوْرِ اور یاد رکھو جھوٹ جو ہے یہ سب برائیوں کی جڑ ہے۔ سب سے بڑی گندگی جھوٹ ہے جو شرک پر منتج ہو گی۔ یہ ناممکن ہے کہ جھوٹ ہو اور انسان مشرک نہ بنے۔ شرک کے ہر پہلو کا جھوٹ سے تعلق ہے۔ پس یہ جو چھوٹی سی آیت ہے اس میں اتنے مضامین اس طرح پیک (Pack) کر دیئے گئے ہیں ، اکٹھے کر دیئے گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ایک ایک مضمون پر اگر آپ گفتگو شروع کریں تو ایک ایک پورا خطبہ اس مضمون کی وضاحت پہ خرچ ہو سکتا ہے۔ مگر میرے پیش نظر یہ مضمون تھا کہ اس کا MTA کے نظام سے کیا تعلق ہے اور یہ آیات میرے ذہن میں جو مضمون تھا اس مضمون کو واضح کرنے میں کس حد تک اور کن معنوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس مضمون کے تعلق میں میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بیت اللہ کا قبلے سے بھی ایک تعلق ہے۔ توحید کا ہر قسم کی گندگی سے پاک ہونے کا تعلق ہے۔ جب آپ کا قبلہ بدلتا ہے تو شرک ہوتا ہے اور جب شرک ہوتا ہے تو نجس پیدا ہوتی ہے یا دل گندہ ہو تو شرک پیدا ہو گا ور نہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہر قسم کا حبت، ہر قسم کی گندگی ، ہر قسم کی غلاظت جو ہے وہ شرک پر لازما منتج ہو گی اور اوثان اٹھ کھڑے ہوں گے۔ خدائے واحد کی بجائے بت سامنے آجائیں گے اور بت پیدا ہو جائیں گے اور یہ عجیب ایک تو ارد ہے کہ MTA نے اپنا قبلہ ان دنوں میں تبدیل کیا ہے اور اس قبلے سے کلیہ احتراز کر لیا ہے جس قبلے پر گندے پروگرام آتے ہیں اور رجس ہے۔ چنانچہ جب ہم نے اس کو بدلا تو بعض دوستوں نے ہمیں یہ لکھا کہ اسے پھر وہ لوگ نہیں سن سکیں گے آپ نے بدل تو دیا ہے جو مشہور اور ہر دل عزیز پروگرام سننے کے لئے اسی سمت میں اپنے ڈش انٹینا کو سیٹ کئے بیٹھے تھے۔ ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ وہ تو گندگی کی خاطر اس سمت میں انٹینا کو Fit کئے بیٹھے ہیں۔ وہاں اگر شرک کی بجائے