خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد 15 295 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء اللہ کی یہ تقدیر خوب کھل کر ظاہر ہوگئی ہے کہ آج دنیا کی تقدیر جماعت احمد یہ سے وابستہ ہو چکی ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده 19 را پریل 1996ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: أَفَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَونَهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشْوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (الجاثية :24) پھر فرمایا : گزشتہ خطبہ جمعہ پر میں نے اسی آیت کی تلاوت کے بعد چند ایسی انسانی غفلتوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو اس کی ذات کے اندھیرے ہیں۔ وہ غفلتیں جو انسان کی ذات پر اندھیرے بن کے چھا جاتی ہیں اور اسے حصول مقصد سے بے خبر رکھتے ہیں اس کی پہچان سے ہی نا آشنا رکھتے ہیں وہ سب سے خطرناک اندھیرے ہیں جن سے آگے پھر ہر قسم کے گناہ پھوٹتے ہیں اور قرآن کریم نے ایک بڑی ترتیب کے ساتھ اور ایک تدریج کے ساتھ اول معمولی ابتدائی حالتوں کا ذکر فرمایا پھر ان سے پھوٹنے والی زیادہ سخت اور زیادہ خطر ناک حالتوں کا ذکر فرمایا پھر آخری نتیجہ نکالا کہ اگر یہ مضمون اسی طرح تدریجاً بڑھتا ر ہے تو اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے ایک روئیدگی شروع میں تو نظر کو بھلی لگتی ہے سرسبز و شاداب کو نیلیں جب پھوٹ رہی ہوتی ہیں تو انسان کی نظر کو بہت پیاری لگتی ہیں اور ان کے حُسن سے استفادہ ایک معصوم سی چیز دکھائی دیتی ہے لیکن پھر وہی کھیتی لہلہانے لگتی ہے اور خوب تموج اختیار کرتی ہے، ہواؤں کے ساتھ ناچتی ہے، رقص کرتی ہے اور پھر اس کے بونے والوں کے دل کو