خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد 15 239 خطبہ جمعہ 29 مارچ 1996ء اکٹھا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ محبت، محبت کو پیدا کرتی ہے اور محبت کے بغیر محبت پیدا ہو نہیں سکتی۔ اس لئے ظاہری عقلی اطاعت اور چیز ہے محبت کے تقاضوں کے نتیجہ میں اطاعت اور چیز ہے۔ محمد رسول الله صلى الله اوسه اللہ ﷺ کے غلام کبھی آپس میں جڑ نہ سکتے خواہ حضور کے سامنے گردنیں جھکا دیتے اگر رسول اللہ ﷺ کی محبت کا فیض نہ ہوتا ہے نہ ہوتا یہ وہ مضمون ہے اور پھر بالآخر آنحضرت ﷺ سے بھی دور ہٹنا شروع ہو جاتے صلى الله کیوں کہ جس کو محبت سے نہ باندھا گیا ہو وہ عذر ڈھونڈتا ہے۔ ذرا سا بھی عذر پیدا ہو جائے تو وہ بھڑک اٹھتا ہے اور دور نکل جاتا ہے لیکن محبت ہو تو بڑی سے بڑی سزا کو بھی انسان خوشی سے قبول کر لیتا ہے۔ محبت ہو تو بڑی سے بڑی سختی بھی دل پر اتنی ناگوار نہیں گزرتی کہ انسان کا دل اپنے محبت کے رشتے توڑ کر الگ ہو جائے۔ کچھ دیر غم کی حالت رہے گی مگر پھر رہے گا وہیں کا وہیں اس سے دور ہٹ نہیں سکتا۔ یہ جو کشش ثقل ہے یہ بھی تو محبت ہی ہے اس کے سوا اس کی اور کوئی طاقت نہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ محبت دنیا کی ہر طاقت سے بڑھ کر طاقت ہے۔ چنانچہ کش نچه کشش ثقل کا راز سائنس دان اتنی ترقی اور غور وفکر کے باوجود بھی آج تک سمجھ نہیں سکے اور جو زیادہ دانشور ہیں اور حق پرست ہیں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں اس کی سمجھ نہیں آئی ۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ڈاکٹر عبدالسلام سے گفتگو کے دوران وہ جانتے ہیں جو چار بنیادی طاقتوں کو آپس میں ملانے کے لئے دو کا راز سمجھ گئے اور چار کی بجائے تین طاقتیں رہ گئیں ہیں جن کے متعلق رشتے ڈھونڈے جارہے ہیں کن رشتوں سے ان کو باہم ملا کر ایک بنایا جائے لیکن آخری طاقت کشش ثقل کی ہے۔ کشش ثقل کی طاقت اتنی مشکل ہے سمجھنے کے لحاظ سے کہ حساب بے کار ہو جاتے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اس کو کس طرح ظاہر کیا جائے کہ یہ طاقت ہے کیا چیز ؟ جس قوت کے ساتھ زمین ہر چیز کو اپنے گر دسمیٹے ہوئے ہے جو Energy خرچ ہورہی ہے اس پر وہ اتنی بھی نہیں کہ انسان اپنے ہاتھ میں کسی وزن کو اٹھائے تو اس پر جو خرچ ہوتی ہے اتنی ہو۔ چونکہ محبت دونوں طرف ہے زمین جن چیزوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے وہ چیزیں زمین کی طرف کھینچتی چلی آ رہی ہیں۔ اس لئے محبت کے مضمون کو سمجھے بغیر یہ سائنس کا مضمون حل ہو ہی نہیں سکتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی محبت کے کرشمے سے تمام کا ئنات کو آپس کے بندھنوں سے باندھا ہے۔ اور اسی محبت کے نتیجے میں پھر دوسری طاقتیں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً بجلی کی طاقت ہے Electricity ہے۔ یہ کشش ثقل کی براہ راست مرہون منت ہے۔ اگر کشش ثقل نہ ہو تو کوئی چیز اوپر اٹھ کر نیچے نہیں