خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 231
خطبات طاہر جلد 15 231 خطبہ جمعہ 22 مارچ 1996ء ہیں جیسا مومن بندوں پر خدا کا تصور غالب آتا ہے اور اندھا دھندان خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ جرائم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں کیونکہ خواہش کا شیطان ان کو کسی برے رستے سے روکتا نہیں بلکہ برے رستوں کی طرف بلاتا اور اکساتا ہے اور آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے لیکن عبادت کے بغیر وہ نہیں رہتے ۔ پس دنیا ان کی عبادت کی جگہ بن جاتی ہے۔ دنیا کی پیروی ان کی عبادت ہو جاتی ہے اور دنیا ان کا معبود بن جاتی ہے۔ اب جتنی بھی تو میں خدا سے ہٹی ہیں ان کو دیکھ لیں دنیا ان کا معبود ہے، سب کچھ دنیا ہے اور اتنے انہماک سے ان کی پیروی کرتے ہیں کہ وقتی طور پر خدا ہی کے قانون کے تابع اس معبود باطل کی پرستش کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ اپنے مقاصد کو حاصل بھی کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم نے جو فرمایا: أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُ وا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِنْ دُونِي أَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ نُزُلًا قُلْ هَلْ تُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ مَالَّا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا )105 الکی: 103 تا یہ جو آخری ٹکڑا ہے اس آیت کا یہ ہے جس کا اس آیت سے جو زیر نظر ہے اس سے گہرا تعلق ہے۔ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا جب دنیا ان کی معبود ہو جائے تو ان کی تمام تر کوششیں اس معبود کی عبادت میں خرچ ہوتی ہیں اور کچھ حاصل بھی کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ دنیا ان کو ضرور حاصل ہونے لگتی ہے اور اسی دھوکے کی زندگی میں ، اسی روشنی میں و رہا وہ ہم جس کو میں قرآن کی تعریف میں اندھیرا کہہ رہا ہوں اس میں وہ دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم نے تو بہت کچھ حاصل کر لیا ہم تو صنعتوں پر غالب آگئے ہیں ہمارے جیسا کا ریگر تو دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوا اور صنعتوں کی وجہ سے ہم دنیا پر غالب آئیں گے اور دنیا کو نیچا دکھا دیں گے یہ مضمون ہے جو اس پیروی سے وابستہ ہے۔ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعا یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا گھاٹا کھانے والے تو ہیں مگر آخرت میں گھاٹا کھانے والے ہیں۔ دنیا کی زندگی تو ان کو ملے گی مگر یہ دنیا کا معبود آخرت میں ان کے کام نہیں آئے گا۔ اس معبود کو وہ پیچھے چھوڑ کر آگے جائیں گے۔ نہ ان کا ولی ہو سکے گا، نہ ان کا شفیع ہو سکے گا۔