خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد 15 200 خطبہ جمعہ 15 مارچ 1996ء جو اندرونی اندھیرے ہوتے ۔ ہیں ان کی بھی دراصل تین ہی قسمیں ہیں۔ تین قسموں کے اندھیرے ہیں جو انسانی نفس سے وابستہ ہیں اس سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان کو اس دھوکے میں مبتلا کرتے ہیں اور آخری نتیجہ یہی ہے کہ یہ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کی مثال بیان فرمائی: كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُ اس کی مثال ایسی بارش کی سی ہے جو کھیتی اگاتی ہے تو وہ کھیتی کفار کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہے ثُمَّ يَهِيجُ پھر وہ لہلہاتی ہے مگر پھر فَتَرَبَّهُ مُصْفَرًّا پھر وہ زرد ہو جاتی ہے ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا پھر وہ خشک ہو کر چورا چورا ہو جاتی ہے۔ ہیجان کہتے ہیں لہلہانے کو اور حرکت کو تو بھیج کا مطلب ہے وہ خوب نشو و نما دکھا کے ہوا کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے لیکن بالآخر زرد پڑ جاتی ہے اور يَكُونُ حُطَامًا وہ خشک ہو جاتی ہے۔ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِید اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے جو اس سے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔ دنیا کی ناکامی اور نامرادی جن کاموں میں محنت کی تھی وہ دراصل نیک انجام کو نہ پہنچیں اور انسان کو جو توقعات وابستہ تھیں وہ توقعات پوری نہ ہوں یہ اس کھیتی کی سی مثال ہے جو شروع میں بہت اچھی لگتی ہے مگر بالآخر انجام اس کا ناقص اور خراب ہے۔ فرمايا في الآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ آخرت میں عذاب شدید بھی ہے مگر وَ مَغْفِرَةٌ مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٌ مغفرت بھی ہے اور رضوان بھی مغفرت اورضوان کے لئے کوئی الگ بنیاد قائم نہیں فرمائی ، کوئی ایسا مضمون نہیں فرمایا کہ یہ تو عذاب والا مضمون تھا اب مغفرت اور رضوان والا مضمون یہ ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ وہی دنیا کی زندگی مغفرت اور رضوان کا موجب بھی بن سکتی ہے اور وہی دنیا کی زندگی سزا اور عذاب کا بھی موجب بن سکتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ جو خدا سے دور ہیں ان کو دنیا کی زندگی فائدہ نہیں پہنچاتی اور بسا اوقات بدانجام مرتے ہیں اور اپنی محنتوں کے لطف نہیں اٹھا سکتے ۔ اگر اسی دنیا کی زندگی ان تین بلاؤں سے محفوظ رکھو جو اندھیروں کی بلائیں ہیں جن کا پہلے ذکر فرما دیا گیا تو پھر وہی دنیا کی زندگی مغفرت کا موجب بھی بن سکتی ہے اور اللہ کے رضوان کا موجب بھی بن سکتی ہے کیونکہ نتیجہ وہی باتیں بنیادی ایک نتیجہ نکال سکتی تھیں دوسرا بھی نکال سکتی تھیں اس لئے الگ مضمون باندھنے کی بجائے اس پہلے مضمون کے آخر پر دو نتیجے رکھ دیئے۔ ایک آخرت میں عذاب شدید کا نتیجہ دوسرا مغفرت اور رضوان کا نتیجہ۔