خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 183

خطبات طاہر جلد 15 183 خطبہ جمعہ 8 مارچ 1996ء الدُّنْيَا (الکہف: 29) میں محو ہیں اور اسی کے عاشق ہو کر اسی میں کھوئے گئے ہیں کچھ اخروی زینت جسے تقویٰ کی زینت کہا گیا ہے اس کے دلدادہ ہیں اور اسی کی جانب سفر رہتا ہے۔ مگر زینتیں دونوں ہی زینشتیں ہیں مگر کتنا فرق ہے۔ ایک جگہ زِينَةَ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا فر ما یا دوسری جگہ تقوی کو زینت قرار دیا گیا اور فرمایا اسی زینت کو ہر جگہ لئے پھر وہ جہاں سجدہ کرو یہ زینت تمہارے ساتھ ہو۔ پس انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے روشنی سے متنبہ فرمایا ہے جو دنیا کی چمک اور اپنی نفس کی تمناؤں کے نتیجے میں تمہیں غلط پیغام پہنچاتی ہے اور اندھا پن جو روشنی کا اندھا پن ہو بہت ہی خطرناک ہے ایسے آدمی کو ہر طرف روشنی ہی روشنی دکھائی دیتی ہے اور وہ کوشش ہی نہیں کرتا کہ اس مصیبت اس اندھیرے سے نکل سکے ۔ پس وہ لوگ جو اندھیروں میں لیٹے ہوئے ہیں ان کا بھی بہت بدتر حال ہے لیکن کم سے کم کوشش تو کرتے ہیں جن کو شعور پیدا ہو جائے جیسا کہ اگلی مثال میں اللہ فرماتا ہے وہ اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کچھ دکھائی نہیں دیا مگر بے بسی کا عالم ہے۔ یہ اندھیرا جو ہے یہ ایسا ظالمانہ اندھیرا ہے روشنی کا اندھیرا کہ اس میں انسان سمجھتا ہے میں تو دیکھ رہا ہوں مجھے کوئی کیوں رستہ دکھا رہا ہے مجھے تو سب پتا ہے۔ ایسے آدمی کو آپ حق کا پیغام دیں، نصیحت کریں، جو چاہیں آپ زور آزمالیں وہ آپ کو یہ کہے گا کہ تم کو کیا ہو گیا ہے پاگل ہو گئے ہو ، میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں مجھے ضرورت ہی کوئی نہیں۔ فرمایا ایسا آدمی جو ہے وہ پھر بے روک ٹوک اپنے بد انجام کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کے رستے میں کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور اسے ہدایت دے سکے اور جب وہ آخری انجام کو پہنچتا ہے اس وقت اسے معلوم ہوتا ہے کہ میں جس زندگی کے پیچھے دوڑتا رہا ہوں وہ دراصل موت کی پیاس تھی اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ وہ آگ تھی جو ہر سراب ایک حد سے بڑھے ہوئے پیاسے کے لئے تحفہ پیش کرتا ہے جس کے بعد پانی کی ایک بوند کو ترستے ہوئے مرنا مقدر ہے، اس کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوتا ۔ فرمایا: أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ ایسے لوگوں کے اعمال تو ایسے سراب کی طرح ہیں جو دور سے پانی دکھائی دیتا ہے بقیعہ ایک چٹیل میدان میں واقع ہے۔ يَحْسَبُهُ الظَّمان ماء اسے پیاسا جو ہے وہ پانی سمجھتا ہے۔ اب پیاسا پانی سمجھتا ہے، یہ بھی ایک بہت اہم مضمون ہے