خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد 15 174 خطبه جمعه یکم مارچ 1996ء سامنے چڑی کا بوٹ یعنی وہ بچہ جو ابھی انڈے سے نکلا ہے جس کے پر وبال نہیں نکلے ، مرغی کا بچہ نہیں فرمایا جو بڑا خوبصورت دکھائی دیتا ہے کیونکہ جتنا بے چارہ بے اختیار بچہ چڑی کا بوٹ ہے ویسا کوئی بچہ بے اختیار نہیں ہوتا ۔ نہ بال، نہ شکل نہ صورت ، وہ کچے گوشت کی بوٹ سی پڑی ہوتی ہے نہ کھا سکتا ہے نہ نہ مدد کے بغیر ایک دن بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ گرمی بھی ماں سے پاتا ہے تو گرمی ملتی ہے ورنہ اس کی ذات میں کوئی گرمی بھی نہیں ہوتی حقیقت میں ۔ فرمایا مجھے تو لگتا ہے کہ میرے سامنے چڑی کا بوٹ بیٹھا ہوا ہے تو یہ ہے وہ نور کی عظمت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔ فرماتے ہیں خدا کہتا ہے کہ میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا یہاں تک کہ سب عظمتیں ان کی نگاہ میں بیچ ہو جائیں گی۔ یہ مرتبہ اور مقام ہے داعی الی اللہ کا کہ ہر دوسری عظمت ہیچ ہو چکی ہو اور جو عظمت اس طرح جلوہ گر ہو کہ اس کے سامنے ہر عظمت پیچ ہو جائے اس کی طرف بلانے کا آپ کو حق بھی ہے اور آپ کو طاقت بھی ہے اور آپ کی آواز میں دیکھیں کیسی شوکت پیدا ہو جائے گی۔ یہی باتیں ہیں جو میں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سنیں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں۔ پس میری روح بول اٹھی کہ خدا تک پہنچنے کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے۔ حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں فرضی تجویزیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا ہے۔ ہم نے اس خدا کی آواز سنی اور اس کے پُر زور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔ سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے اور ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔ سو ہم بصیرت کی راہ سے اس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں یہ ہے بصیرت کی راہ جو داعی الی اللہ کے لئے ضروری ہے، فرماتے ہیں ۔ ۔ ہم نے اس نور حقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلماتی پردے اٹھ جاتے