خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد 15 154 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء صلى الله کے لحاظ سے ان میں اور حضرت اقدس محمد مصطفی علی میں ایک فرق رہ جاتا ہے کہ ایک چھوٹا وجو دنور مجسم بنا ہے یا ایک بڑا وجود نور مجسم بنا ہے۔ ایک چھوٹا ظرف بھرا ہے یا ایک بڑا ظرف بھرا ہے۔ پیالہ بھی تو بھرتا ہے، کشکول بھی بھرتا ہے مگر وہ خزانہ بھی بھرا ہوتا ہے۔ بسا اوقات جس سے لاکھوں کروڑوں کشکول بھرے جاسکتے ہیں ایک تالاب بھی بھرتا ہے اور سمندر بھی بھرتا ہے۔ تو یہ کہہ دینا کہ انبیاء کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو شامل کیا گیا یہ گویا کہ نعوذ باللہ من ذالک رسول اللہ ﷺ کی تخفیف فرمائی، ہرگز درست نہیں ۔ صلى الله ا آپ یہ فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء نور مجسم تھے مگر ان سب نوروں سے بڑھنے والا نور حضرت محمدمصطفی ﷺ کا نور ہے کیوں کہ آپ کا ظرف بہت بڑا تھا اور جتنا بڑا اظرف تھا اتنی آپ کو محنت کرنی پڑی ہے اس لئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا کی دین تھی اس کو بنا دیا، اس کو نہ بنایا۔ یہ بات نہیں ہے۔ جس کو جتنا زیادہ دیا اس کو اتنا ہی زیادہ محنت کرنا پڑے گی اسے بھرنے کے لئے کسی نے ایک گلاس بھرنا ہے، کسی نے جگ بھرنا ہے کسی نے مٹکا بھرنا ہے، کسی نے پورا تالاب بھرنا ہے ،کسی کو کہا ایسا سمندر بھر دو کہ کل عالم کی پیاس بجھا دو تمام بنی نوع انسان کا رسول تمہیں بنا کے بھیجا جا رہا ہے۔ فرق تو ظاہر ہے زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا ذکر کرتے ہوئے آگے اس مضمون کو بڑھاتے ہیں۔ صلى الله اس جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے اس جیسا کہ فرمایا: قَدْ جَاءَكُمْ مِّنَ اللَّهِ نُورُ وَ كِتَبٌ مُّبِينٌ (المائدة: 16) وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا ( الاحزاب:47) اور اللہ کی راہ میں بلانے والا اس کے اذن کے ساتھ جو سِرَاجًا مُنِيرًا ہے۔ تو جو کل عالم کو نور بخشے اس کو سورج ہی کہنا چاہئے جب کہ کسی اور نبی کو سورج نہیں فرمایا گیا مگر سارے ہی روشن تھے۔ سارے ہی سرتا پا روشن تر تھے ۔ کوئی ان کے وجود کا حصہ اندھیرا نہیں تھا مگر خدا نے ان کو جتنا ظرف دیا تھا وہ بھر گیا اس ظرف کو بھرنے میں ان کو نسبتاً آسانی تھی کم محنت کرنی پڑی اس لئے جزا سزا کا مضمون بھی اسی طرح جاری ہے انصاف کے ساتھ زیادہ دیا تھا تھا تو زیادہ محنت کے تقاضے بھی تو