خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 116
خطبات طاہر جلد 15 116 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء جوابی جدو جہد ہی ختم ہو جائے گی یا بے معنی ہو جائے گی اور بسا اوقات ختم ہو جاتی ہے پھر انسان اس چیز کو ایک تقدیر کے طور پر ایک قانون کے طور پر قبول کر کے اس پر راضی ہو بیٹھتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں ایک اور گناہ ایسا پیدا ہوتا ہے جس کا دائرہ پھر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ تو رمضان مبارک میں جھوٹ کے خلاف اگر آپ جہاد کریں تو یاد رکھیں اس کے نتیجے میں آپ کے روزے میں بھی برکت ہوگی ۔ آپ ویسے بھی تو خدا کی خاطر کھانے سے رک رہے ہیں، پینے سے رک رہے ہیں مگر اگر ساتھ یہ جہاد بھی شروع ہو جائے جو جھوٹ کے خلاف ہے ،اس جھوٹ کے خلاف جو روزے کا زہر قاتل ہے، اگر جھوٹ کھا لیا تو گویا سب کچھ روزے میں کھا لیا اور روزے کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔ پس جھوٹ کے خلاف اگر آپ جہاد شروع کریں گے اور باریکی سے گرد و پیش میں نظر رکھیں گے تو آپ کے روزے کی بھوک آپ کے لئے زیادہ ثواب لے کے آئے گی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قبولیت کی شرط سچائی رکھ دی ہے ۔ پس جتنا آپ سچائی کی طرف بڑھیں گے اتنا ہی آپ کے روزے مقبول ہوتے چلے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں آپ کو دنیا میں بھی یہ محسوس ہوگا کہ یہ روزہ آپ کے لئے روحانی صحت کا موجب بنا ہے۔ صلى الله عليسة پس سارے عالم کو جھوٹ سے صاف کرنے کے لئے ایک بڑی عظیم جدو جہد کی ضرورت ہے۔ تبلیغ کے ذریعے جہاں لوگ احمدیت کو قبول کرتے ہیں وہاں ان کے اوپر اصلاحی تربیتی کام کا آغاز وہیں سے شروع ہو جانا چاہئے اور جن قوموں میں جھوٹ پایا جاتا ہے وہاں اس کے خلاف جہاد کریں۔ بعض تو میں ہیں جو غریب بھی ہیں مگر سچی ہیں مگر بعض ہیں جو امیر بھی ہیں اور جھوٹی ہیں اور اسی طرح خاندانوں کا حال ہے ، اسی طرح افراد کی کیفیت ہوتی ہے۔ تو آپ کو بیدار مغزی کے ساتھ جس شخص کو احمدیت کے دائرے میں لے کے آنا ہے اس کی کمزوریوں پر نظر ڈالنی ہوگی اور ان کی اصلاح کا جہاد فوراً شروع کرنا ہے کیونکہ کسی کا احمدیت میں آنا اس کے سوا کوئی معنے نہیں رکھتا کہ اب مجھے جو ٹھیک کرنا ہے کر لو میں حاضر ہوں، میں نے قبول کر لیا، جو اصلاح کا دور ہے وہ ختم نہیں ہوا ، شروع ہوا ہے۔ قرآن کریم اسی مضمون کو بیان فرماتا ہے یہ کہہ کر ہمیں یہ دعا سکھا کر کہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَّا ( آل عمران:194) اے ہمارے رب ہم نے سنا ایک منادی کرنے والے کو ، ایک اعلان عام کرنے والے کو کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ