خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 110

خطبات طاہر جلد 15 110 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء ہاں میں نے اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے تکلیف اٹھائی ہے اور مجھے خوشی ہے۔ وہ جو خوشی ہے وہ زبان کی بات نہیں ہوتی وہ دل کا تجربہ ہوا کرتا ہے۔ واقعہ روزے دار جب یہ احساس پیدا کرے تو اس کو لطف آتا ہے کہ آہا بہت اچھی بات ہے۔ کچھ غریب ایسے بھی ہیں جو بے اختیار ہیں وہ بھوکے رہنے پہ مجبور ہیں مجھے تو اختیار تھا میں تو خدا کی خاطر رکا ہوں ۔ پس اس پہلو سے رمضان ہوش کے ساتھ گزاریں اور جو گنتی کے چند دن باقی رہ گئے ہیں ان میں اپنا مواز نہ کرتے رہیں۔ اس دوران کی کیفیت کا موازنہ اپنی پہلی کیفیات سے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے احساس کا موازنہ اپنے پہلے احساسات سے ۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو میں امید رکھتا ہوں کہ اگلے دن آپ کے لئے بہت کچھ فائدہ چھوڑ جائیں گے اور زیاں کا کوئی احساس نہیں ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ، ابو ہریرہ سے روایت ہے یہ بھی صحیح بخاری سے حدیث لی گئی ہے کہ روزے ڈھال ہیں ، سو کوئی شخص فحش بات نہ کرے اور نہ جہالت کی بات اور اگر کوئی آدمی اس سے لڑے، گالی دے تو چاہیئے کہ اس سے دو بار کہے کہ میں روزہ دار ہوں ۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے صلى الله ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ (صحيح البخارى كتاب الصوم باب هل يقول اني صائم أذا شتم) اب یہ حدیث جو ہے اس میں جو بُو کا بیان ہے یہ ویسا ہی بیان ہے جیسا کہ ریان کی بات ہو رہی ہے کہ وہ ایک دروازہ ہوگا جنت میں ۔ وہ کوئی ظاہری لکڑی کا دروازہ نہیں ہوگا۔ اور یہاں جو بو ہے خدا کو تو بو آتی ہی نہیں ان معنوں میں جن معنوں میں ہمیں آتی ہے۔ اگر خدا کو ان معنوں میں بو آئے تو دنیا کی اکثر جگہوں پہ ہر قسم کی بد بو پائی جاتی ہے اور گناہوں کی بدو تو اتنی عام ہے کہ زمین کے قریب بھی خدا نہ پھٹکے کبھی ۔ مگر خدا کو ان معنوں میں بو نہیں آتی ۔ نہ ظاہری نہ روحانی معنوں میں بلکہ اس کا علم ہے اور اسی علم کا نام بعض دفعہ، یہ رکھا جاتا ہے کہ خدا نے محسوس کیا، خدا کو اس بو کا علم ہوا۔ تو علم اور چیز ہے اور ویسے تجربے میں سے گزرنا اور چیز ہے۔ تو مراد یہاں صرف اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے صاف ستھرے اتنی کہ ہے ہوں اللہ تعالی پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندوں میں سے خوشبو اٹھے ظاہری خوشبو بھی اور باطنی خوشبو بھی اور یہ ایک امر واقعہ ہے جو ہر مذہب میں ہمیں اسی طرح ملتا ہے۔ تمام مذاہب میں رواج ہے کہ