خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 106
خطبات طاہر جلد 15 106 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء ہوگا۔ داخل آپ ایک ہی دفعہ ہوں گے مگر ہر گیٹ اپنی تاثیر آپ کے اوپر ڈال رہا ہوگا ۔ ہر گیٹ کا صلى لطف آپ کو محسوس ہو رہا ہو گا مگر ہرگز یہ مراد نہیں کہ اس گیٹ سے داخل ہو جاؤ پھر واپس نکلو ، پھر دوسرے گیٹ سے جاؤ ، پھر تیسرے گیٹ کرے گیٹ سے جاؤ یہ تو ایک بچگا جاؤ یہ تو ایک بچگانہ تصور ہے جو آ انہ تصور ہے جو آنحضرت ﷺ کی طرف کسی صورت میں منسوب نہیں ہو سکتا ، ناممکن ہے مگر اگر اس کا عرفان آپ سمجھیں اس پر نظر ڈالیں تو بہت ہی عجیب پر لطف مضمون ہے جو روزمرہ ہمارے تجربہ میں آتا ہے۔ دو پس جس کو ایک خاص لذت نصیب ہو وہی جانتا ہے کہ وہ لذت کیا ہے اور جب وہ دوسروں سے باتیں کرتا ہے تو کہتا ہے تمہیں کیا پتا۔ یہاں تک کہ شراب پینے والے بھی نہ پینے والوں کو کہتے ہیں ” ظالم تو نے پی ہی نہیں تجھے کیا پتا کیا چیز ہے جو تو چھوڑ رہا ہے ، پئے گا تو پتا چلے گا ، تو شراب معرفت کے متعلق یہ کہنا کہ جنہوں نے پی ہے انہیں کو پتا ہے باقی کوئی اندازہ کر ہی نہیں سکتے اگر سچ ہے تو یہ سچ ہے۔ شراب کا تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا نشہ ہے مگر اس سے زیادہ نشہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی مے کے دنیا میں بسا اوقات ایک انسان پالیتا ہے اور اس کے مقابل پر ہر نشہ ختم ہو جاتا پر ہے۔ پس قیامت کے دن جو ریان کا دروازہ ہے وہ یہ دروازہ ہے جو اس دنیا میں ہم تعمیر کرتے ہیں اور صرف پیاس کی بات پانی سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ دنیا کی ہر خواہش جو ہم خدا کی خاطر چھوڑتے ہیں اور ہمارے دل میں وہ ایک بھڑ کی لگا دیتی ہے جب خدا کی خاطر اس کو پورا کرتے ہیں تو وہ لذت ہے جو جنت میں متمثل ہوگی اور بہت بڑھ جائے گی اتنی کہ اس دنیا کی لذت سے اس کی کوئی نسبت نہیں ہوگی یا اس کے ساتھ اس دنیا کی لذت کو کوئی نسبت نہیں ہوگی ۔ ایک دوسری حدیث ہے یہ بھی صحیح بخاری سے لی گئی ہے ابراہیم بن سعد نے بتایا کہ ابن شہاب نے ہمیں خبر دی عبید اللہ بن عبداللہ بن عقبہ سے مروی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نبی اکرم نیکی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں بہت ہی سخاوت کرتے تھے۔ جب جبریل آپ سے ملتے اور جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کرتے تھے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ نبی ﷺ قرآن کا دور کرتے جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تو آپ نیکی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ بھی ہو جایا کرتے تھے ۔ ۔ - صلى الله (صحيح البخاري كتاب الصوم باب أجود ما كان النبي ﷺ يكون في رمضان )