خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 960 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 960

خطبات طاہر جلد 14 960 خطبہ جمعہ 22 دسمبر 1995ء هذا عند نزول عيسى عليه السلام وقال سدى ذاك عند خروج المهدی که حضرت ابو ہریرہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ یہ وعدہ نزول مسیح کے وقت پورا ہوگا اور سدی کہتے ہیں کہ ظہور مہدی پر یہ وعدہ پورا ہو گا یعنی عملاً بات ایک ہی ہے۔ صلى الله پس اب میں پھر واپس اس مضمون کی آیت کی طرف لوٹتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے مُتِمُّ نُورِہ میں اپنے نور کو تمام کروں گا یعنی مکمل کر دوں گا ، اس کی انتہا تک پہنچادوں گا اور اس نور کے انتہاء تک پہنچنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ازل سے مہدی معہود اور مسیح موعود کو وسیلہ بنا رکھا تھا جس کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں یہ شرف نصیب ہونا تھا کہ اس وعدے کو اس کے زمانے میں پورا کیا جائے اور اس کے ماننے والے اس پیشگوئی کو پورا کر کے اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کریں۔ پس جماعت احمدیہ کی تخلیق کا ایک مقصد ہے۔ وہ یہ مقصد ہے اتمام نو رمحمد مصطفی ۔ اتمام نور مصطفوی ان معنوں میں جن معنوں میں میں بیان کر چکا ہوں اور تمام ادیان پر غالب کرنا ہے کسی ایک دین پر غالب نہیں کرنا۔ پس اس پہلو سے نور کا انتشار ہمارے ذریعے مقدر ہے اور یہ نور کا انتشار ممکن نہیں ہے جب تک ہم اس نور میں سے حصہ نہ پالیں کیونکہ یہ دلائل کے ذریعے غلبے کی بحث ہو ہی الله الله صلى الله نہیں رہی۔ نور کا غلبہ ایک اور چیز ہے اور تبھی آنحضرت ﷺ کے نور کے حوالے سے یہ بات پیش کی گئی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود بارہا ہمیں سمجھا چکے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا نور دائمی ہے اور آج بھی زندہ ہے۔ صلى الله - صلى الله پس جب ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت کا ایک زندہ رسول ہیں تو مشرکین کے معنوں میں نہیں کہتے بلکہ اس برحق کلمے کی رو سے کہتے ہیں جو قرآن میں آپ کی شان میں لکھا گیا۔ آپ کا نور ہے جو غالب آئے گا اور وہ نور کیا ہے؟ وہ صفات کا نام ہے جیسا کہ گزشتہ خطبات میں میں آیات کے حوالے سے ثابت کر چکا ہوں ۔ صفات باری تعالیٰ جو آنحضرت ﷺ کی ذات میں ایسے جلوہ گر ہوئیں گویا آپ مجسم نور ہو گئے وہ نور ہے جسے غلبہ نصیب ہوگا اور دلائل کی اس میں کوئی بحث نہیں ہے۔ یہ نور کردار کا نور ہے۔ یہ وہ نور ہے جب چمکتا ہے تو دیکھنے والوں کی آنکھوں کو روشنی عطا کرتا ہے۔ اندھیروں کو ظلمات کو نور میں اور راتوں کو دن میں بدل دیتا ہے۔ اس ضمن میں ایک اور آیت اس مضمون پر یوں روشنی ڈال رہی ہے۔