خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 941 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 941

خطبات طاہر جلد 14 941 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء صلى صلى الله بہت بری خبر کسی کا دل ٹھہرانے کی خاطر آہستہ بیان کی جاتی ہے۔ کہنا شروع کیا اوہ بے چارہ محمد یہ ہو گیا ہے، وہ ہو گیا۔ باتیں نہیں کرتی تھی اور اشارے کر رہی تھی ۔ کھل کر بات نہیں بتاتی تھی ۔ حضرت ابو بکر کو سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی کیا واقعہ ہو گیا، کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ مجھے بتاؤ ۔ تب اس کو بتانا پڑا اس نے تو دعویٰ کر دیا ہے کہ مجھ پر خدا اترتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں اس زمانے کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ایسی ایسی باتیں کرتا ہے۔ ہر چیز وہیں چھوڑ دی، سیدھا حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہا اے محمد محمد تیری طرف یہ باتیں منسوب کی جارہی ہیں، بتا کیا تو نے ایسا دعوی کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو بھی وہی فکر لاحق ہوئی کہ میرا عزیز دوست ہے اگر اچانک میں نے اس کو بتا دیا تو کہیں ٹھو کر نہ کھا جائے ۔ تو آپ نے فرمایا سنوا بو بکر یہ یہ بات ہے، یہ دلیل ، اس قسم کی باتیں شروع کیں تو حضرت ابو بکر نے کہا میں نے تو یہ نہیں پوچھا کہ دلیل کیا ہے۔ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے یا نہیں ۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے جب یہ سنا تو فرمایا کہ ہاں میں نے یہ دعوی کیا ہے۔ انہوں نے کہا اگر آپ نے دعوی کیا ہے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ سچے ہیں ۔ آج ہی میں گواہی دیتا ہوں کہ جو آپ کی گواہی ہے وہی میری گواہی ہے ۔الفاظ یہ نہ ہوں مختلف ہوں مگر مضمون بعینہ یہی تھا۔ یہ صدیقیت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو ایک دا دلیل کے طور پر پہلے ہی دیکھ رہے تھے اور جانتے تھے کہ اس کی سچائی کی اس سے بڑھ کر دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ مگر اس کے لئے جس نور کی ضرورت ہے ضروری نہیں کہ نور قرآن کے مطالعے میں بھی وہی کرشمے دکھائے اور محمدرسول اللہ ﷺ کی سچائی کو پہچاننے کے باوجود قرآن کو تفصیل سے سمجھنے کے لئے جس نور کی ضرورت ہے وہ سب سے زیادہ اور سب سے اکمل طور پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوا اور پھر ان کو عطا ہوتا ہے جن کو خدا جس حد تک نورِ بصیرت عطا فرماتا ہے اور خودان کی حفاظت کرتا ہے۔ صلى الله صلى الله d على الله اور یاد رکھیں صرف نور بصیرت عطا ہونا کافی نہیں ہے خود اس کی حفاظت بھی ضروری ہے اور اسے صحیح راستے پر گامزن رکھنے کے لئے جو حفاظتی تدابیر روحانی دنیا میں مقرر ہیں ان کو عملاً مامور کر دینا اس بات پر کہ یہ بندہ جس کو ہم قرآن کا کچھ نور دکھانا چاہتے ہیں یہ غلط نہ دیکھے، تم اس کی حفاظ کرو۔ یہ اس لئے واضح اور قطعی حقیقت ہے کہ جہاں قرآن کی حفاظت کا وعدہ ہے وہاں یہ وعدہ شامل