خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 937
خطبات طاہر جلد 14 937 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء سورہ طہ کی جن آیات کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے ان میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ (طہ: 109 ) وہ جب بڑے بڑے انقلاب برپا ہوں گے، جب پہاڑ پیں دیے جائیں گے اور دنیا کو برابر کر دیا جائے گا اس دن وہ وہ بڑی بڑی طاقتوں والے لوگ ، بڑے بڑے مغرور لوگ لازماً اس رسول کی پیروی کریں گے جس میں کوئی عوج نہیں ہے ۔ لَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا اور لَا عِوَجَ لَهُ دیکھ لیں ایک ہی مضمون کے دو بیان ہیں ، قطعاً کوئی فرق نہیں ہے۔ پہلی آیت میں جو سورہ کہف سے لی گئی تھی اس میں یہ فرمایا تھا اَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا ہم نے کتاب اتاری اور اس میں کوئی عوج نہیں رکھا ، اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ سورہ طہ میں جو اس کے بعد آ رہی ہے اس میں یہ فرمایا یہ لوگ اس دن اس داعی کی پیروی کریں گے جس داعی میں کوئی عوج نہیں تو ثابت ہوا کہ لَا عِوَجَ لَهُ ۚ کا مضمون لازما محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور ثابت ہو رہا ہے کہ آپ مراد ہیں ۔ مگر کتاب کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اس لئے کتاب کا ترجمہ کرنا بھی درست ہے۔ بعض دفعہ کتاب کی طرف زیادہ راجع دکھائی دیتا ہے اور دوسری طرف اشارہ استنباط کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ آنحضرت ﷺ کی طرف واضح طور پر انگلی اٹھتی ہے اور قرآن اس اشارے میں شامل ہوتا ہے۔ الله صلى الله ج صلى الله صلى الله پس کوئی تفریق نہیں ہے نور قرآن میں اور نور محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ قرآن کی عملی زندہ تفسیر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ قرآنی آیات کو سمجھنے کے لئے اگر آپ غور کریں تو آنحضرت مایا اے کی سیرت کا کوئی نہ کوئی پہلو آپ کا مددگار ہو جائے گا اور جہاں آپ کی تفسیر نورمحمد رسول اللہ ﷺ سے ہٹتی ہوئی دکھائی دے گی وہیں وہ ظلمت میں داخل ہو جائے گی ۔ اس کا نور محمدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میری ہرگز مراد یہ نہیں کہ خالصہ حدیثوں سے اور حدیثوں کے حوالے سے تفسیر کی جائے۔ آنحضرت ﷺ کا وجود بلا شبہ ایک ایسا دمکتا ہوا نور ہے جس کا تصور بالکل واضح اور قطعی ہے۔ مثلاً کوئی صلى الله ایسی حدیث ہو جس سے استنباط کرتے ہوئے نعوذ باللہ ، رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسی حرکت منسوب ہو جو محمد رسول اللہ ﷺ کی شان کے منافی ہے جو قرآن کے اس نور کے منافی جسے سب سے زیادہ شاندار نور کے طور پر قرآن کریم نے کھول کر بیان کیا ہے۔ ہر ایسے موقع پر وہ حدیث ، حدیث نہیں