خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 931
خطبات طاہر جلد 14 931 خطبه جمعه 8 دسمبر 1995ء وہ مقام جس مقام تک مخلوق پہنچی ہے اس کا آخری کنارہ جہاں پہنچا جا سکتا تھا وہ وہ کنارہ ہے جو معراج کی رات آنحضرت علی کو دکھائی دیا اور اس سے آگے انسانی استعداد کا سفر ختم ہوا ہے۔ خدا کا نور ختم نہیں ہوا۔ یہ مضمون سمجھیں تو پھر توحید قائم رہتی ہے ورنہ شرک شروع ہو جائے ضمون سمجھیں تو پھر تو حد تو تو ہے ورنہ صلى الله گا۔ پس ہمیں بھی آنحضرت ﷺ کی سمت میں سفر کرنا ہوگا۔ آپ کو معبود اور مقصود بنا کر نہیں بلکہ معبود اور مقصود کی طرف لے جانے والا سمجھتے ہوئے ۔ قبلہ بناتے ہوئے نہیں بلکہ قبلہ نما بناتے ہوئے۔ جس قبلے کی طرف آپ کا رخ ہمیشہ رہا آپ ﷺ سے اس رخ کے انداز کو سمجھتے ہوئے اس رخ کی تعین کے گر آپ سے سیکھتے ہوئے ، آپ کے پیچھے چل کر، آپ کی پیروی کرنا اس غرض سے ہو کہ آپ کے معبود کی پیروی ہوگی۔ جس معبود سے آپ نے سب فیض پایا ہم بھی اسی معبود تک پہنچنے کا یہ ذریعہ اختیار کرتے ہیں۔ صلى الله یہ جب میں بات کہتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے ذاتی تعلق ختم ہو رہا ہے اور ایک قسم کا میکا کی یعنی مکینیکل سا تعارف بن گیا ہے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ انسان جس سے فیض پاتا ہے اس سے رسمی تعلق رہ ہی نہیں سکتا۔ اس سے بے ساختہ قلبی تعلق قائم ہوتا ہے۔ پس تو حید کے حوالے سے جب میں بات کروں تو شاید آپ میں سے بعضوں کو کچھ اور بات سمجھ آئے۔ اگر اس حوالے سے بات کروں جس سے میں نے بات شروع کی تھی تو پھر جو بات سمجھ میں آتی ہے وہی اصل حق ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سمت میں سفر خدا کو پانے کے لئے ہے اور جتنا آپ قدم اس سمت میں آگے بڑھاتے ہیں خدا آپ کو ملتا چلا جاتا ہے۔ پس خدا کوئی ایسی چیز نہیں جو اس سے پرے کہیں آخر پر جا کر ملے۔ ہر قدم پر ملتا ہے اور اس کا قرب محسوس ہوتا ہے اور جب ملتا ہے تو بے ساختہ دل سے یہ دعا اٹھتی ہے کہ: صلى الله مصطفیٰ" پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے صلى الله علیہ ( در ثمین: 16) سے یہ ہے وہ تعلق باللہ جو شرک سے پاک ہے۔ یہ عشق محمد مصطفی ﷺ ہے جو ہر قسم کے شرک کی ملونی سے پاک ہے۔ یہی ہے جو پاکیزگی بخشنے والا اور یہی ہے جو اپنے ساتھیوں کو نور بنانے والا تعلق ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین