خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 920 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 920

خطبات طاہر جلد 14 920 خطبه جمعه 8 دسمبر 1995ء صلى الله حدیث آپ کو سناتا ہوں جو صحیح بخاری کتاب الدعوات باب الدعائاذا نبته باليل حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب را رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ سب تعریفیں تیرے لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا نور ہے اور اسے قائم رکھنے والا ہے۔ پس جہاں جس حد تک نور سے تعلق ٹوٹا وہاں انسان ڈھے گیا ، وہاں مسمار ہو گیا کیونکہ قیام کا تعلق آنحضرت ﷺ نے نور سے باندھا ہے۔ تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا نور ہے اور اسے قائم رکھنے والا ہے۔ یعنی صرف پیدا کرتے وقت تخلیق کے وقت ہی نور نے کارروائی نہیں کی بلکہ اس کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لئے نور کے ساتھ اس کا ایک تعلق رابطہ ہے جو نہ ختم ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا اے اللہ ! تجھے ہی سب محمد زیبا ہے۔ سب تعریف اگر بجتی ہے تو تجھے بجتی ہے۔ تو حق ہے۔ تیرا وعدہ سچا ہے، تیری بات سچی ہے اور تجھ سے ملاقات برحق ہے اور جنت حق ہے اور آگ حق ہے اور قیامت حق اور سب نبی حق اور محمد حق ہے۔ اے اللہ میں تیرے لئے فرمانبردار ہوا اور تجھ پر تو کل کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیری طرف جھکا تیری ہی تائید سے مد مقابل کا سامنا کیا اور اپنے معاملے کا فیصلہ تیرے سپرد کیا۔ پس مجھے بخش دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں سرزد ہو اور جو میں نے چھپایا اور جو میں نے ظاہر کیا اسے بھی بخش دے۔ تو ہی آگے بڑھانے والا اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ d یہ دعا در اصل نور ہی کے حوالے سے کی جا رہی ہے اور اس میں جگہ جگہ کھلے لفظوں میں کہے صلى بغیر وہ حوالے دکھائی دیتے ہیں ۔ مثلاً آنحضرت ا عرض کرتے ہیں مجھے بخش دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں سرزد ہو۔ نور کا علم سے ایک تعلق ہے اور علم اور نور بعض پہلوؤں سے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ پس آپ فرماتے ہیں کہ جو میں پہلے کر چکا ہوں مجھے تو اس کے متعلق بھی پورا علم نہیں کہ کوئی ایسی بات نہ ہو گئی ہو جو تیرے لئے ناپسندیدگی کا موجب ہو۔ مگر جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے وہ جواب آچکا ہے کہ جو کچھ تو نے کیا ، جو کچھ آئندہ کرے گا سب خدا کے نزدیک قبولیت کی جگہ پاچکا ہے اور مغفرت کی چادر نے ہر چیز کو ڈھانپ رکھا ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نور پانے کے لئے سب سے بڑا مقام عبودیت قرار دیا ہے۔ یہ حوالہ میں بعد میں آپ کے سامنے پیش کروں گا کیونکہ جب کہا جاتا ہے کہ نور کو پاؤ تو اس کے ذریعے بھی تو سمجھانے چاہئیں کہ کیسے اللہ کا