خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 87
خطبات طاہر جلد 14 87 خطبه جمعه 3 فروری 1995ء میری آنکھ اس کے لئے میلی ہوئی تو اس کا دل بھی میلا ہوا اور ہر دفعہ جب میں نے صرف نظر کی تو یہ اپنی ذات سے کھویا گیا ۔ اس قدر بے چین ہوا کہ اس نے میری عدم توجہ کو محسوس کیا ۔ ایسا آقا اس غلام پر بار بار بھی رحم فرماتا ہے لیکن دائمی حالت غلامی کی حالت ہونی چاہئے ۔ وہ زنجیریں ایسی ہوں جو کبھی ٹوٹ نہ سکیں اور بعض ایسے ابتلاء انسان پر آتے ہیں جب اس کے لئے دوٹوک فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ یہاں ایک ذریعہ میسر ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف ہے اور ایک ذریعہ ہے جو دعا ہے۔ کیا میں دنیاوی ذریعے کو جو مجھے نظر آرہا ہے کہ میں اختیار کروں تو کچھ نہ کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے، اسے اختیار کروں یا چھوڑ دوں اور محض دعا پر انحصار کروں۔ وہ دعا ہے جو اس کے غلام ہونے کو ثابت کرتی ہے وہ دعا ہے جو بتاتی ہے کہ اس کا ایک آتا ہے جس سے تعلق ٹوٹ نہیں سکتا ۔ پھر وہ یہ عرض کرے گا اپنے رب سے کہ میں نے تو دنیا کے سب رشتے توڑ دیئے ہیں تو ہے تو میں ہوں ، تو نہیں ہے تو میرا کوئی وجود نہیں ۔ تو ہے تو میرے سارے مسائل حل ہوں گے۔ تو نہیں تو میرا کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکتا کیونکہ میں تو دنیا کی کشتی کو چھوڑ کر تیری کشتی میں آچکا ہوں۔ اس لئے تو میرے لئے ہو جا اور اپنے وجود کو میری ذات پر ظاہر فرما۔ یہ وہ دعا ہے جو ضرور مقبول ہوتی ہے جب انسان ایسا دعا کرنے والا آزمائش پر پورا اترتا ہے تو عجیب استجابت کے جلوے دیکھتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر وہ خدا کو غیب سے ظاہر ہوتا ہوا اور شہادہ میں آتا ہوا د یکھتا ہے۔ پس یہ واقعہ تو روزمرہ کی زندگی میں ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ جوان تجارب سے گزرتے ہیں وہ جانتے ہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ایسا ہوتا ہے مگر رمضان میں یہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں تو اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ پس اپنے اور اپنے بچوں کا شعور اس پہلو سے بیدار کریں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی بتائیں کہ یہ دعا ئیں کرنے ، دعا ئیں سیکھنے اور خدا کی ہستی کا ایک ذاتی تعارف حاصل کرنے کا موقع ہے۔ یہ مہینہ ایسا ہے جس میں خدا کی ہستی سے ایک غائبانہ تعارف نہیں رہتا بلکہ آمنے سامنے کا تعارف ہو جاتا ہے ۔ پس اس طرح اگر آپ اس رمضان سے گزریں گے تو بہت برکتیں ہوں گی جو برکتیں عارضی ہو ہی نہیں سکتیں کیونکہ اگر کسی بڑے آدمی سے کسی چھوٹے آدمی کا تعلق قائم ہو تو پھر وہی بات غلام اور آقا کی نسبت کی ، کہ غلام تو چھوڑ ہی نہیں سکتا، آقانا پسند فرمائے تو چھوڑ بھی دیتا ہے۔ غلام ہمیشہ پریشان اور فکر مند رہتا ہے کہ کہیں یہ تعلق