خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 896
خطبات طاہر جلد 14 896 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء دوسروں کے سینوں میں روشن کرنے شروع کر دیئے ، گھر گھر میں وہ شمعیں جلنے لگیں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ ان گھروں میں جن کے متعلق خدا نے ، تقدیر نے فیصلہ کر دیا ہے کہ ان گھروں کو بلند کیا جائے گا۔ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ اور ان میں اس کا نام یاد کیا جائے گا اور نام یاد رکھا جائے گا ۔ دوسرا معنی ہے تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ اس کا نام بلند کیا جائے گا اور نام یاد رکھا جائے گا۔ مگر گھروں کی بلندی تو ناموں کی بلندی سے ہی ہے۔ جس گھر میں نام بلند ہو وہ گھر بلند ہو جایا کرتا ہے۔ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا اس میں وہ لوگ جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہیں وہ خدا کی تسبیح کریں گے یا کرتے ہیں بِالْغُدُوِّ وَالْأَصَالِ صبح بھی اور شام بھی۔ تو وہ نور کیسے حاصل ہوتا ہے ۔ تسبیح الہی سے، ذکر الہی سے،خدا کا ذکر بلند کرواس کی تسبیحات بلند کرو، صبح بھی کرو ، شام بھی کرو تو تمہیں اس نور سے حصہ ملنا شروع ہو جائے گا۔ جو آنحضرت ﷺ کا وہ نور ہے جو خدا نے مثالاً بیان فرمایا ہے ورنہ اللہ کے نور کی حقیقت کو کوئی دنیا میں صلى الله نہیں جانتا ۔ اب چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے باقی انشاء اللہ آئندہ خطبے میں۔