خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 4
خطبات طاہر جلد 14 لئے مال کی بحث نہیں ہے، تقویٰ کی بحث ہے۔ 4 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء اس کی وضاحت اس لئے ضروری ہے اور اسی غرض سے میں نے اس آیت کا آج کے لئے انتخاب کیا تھا کہ بعض دوست اپنی نادانی میں یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں جو مال مال کا چرچا ہو رہا ہے گویا کہ محض ایک تاجر ذہنیت کی جماعت ہے، ہر وقت مالوں کے مطالبے ہورہے ہیں اور اس خیال کو بعض اپنی طرف سے تو پیش نہیں کرتے اپنے غیر احمدی دوستوں کی طرف منسوب کر کر کے پیش کرتے ہیں اور جو کرتا ہے وہ اپنے دل کا ایک داغ ضرور دکھا جاتا ہے ورنہ جو مالی نظام کو سمجھتا ہو اور خدا کی خاطر قربانی کرنے والا ہو اس کا غیر احمدی دوست اگر یہ بات کہے گا تو اس کو ہزار جواب وہ اپنی طرف سے دے سکتا ہے کہ تمہیں پتا ہی کیا ہے تم لوگ تو خدمت دین کرنے کے لئے بھی بھکاری بنے ہوئے ہو یعنی بڑی بڑی امیر طاقتوں سے پیسے لیتے ہو تو خدمت کرتے ہو ۔ خدمت دین تو وہ ہوتی ہے کہ اپنی جیب سے انسان خرچ کرے اور پھر خدمت بھی کرے اور پھر اللہ تعالیٰ نے تو سارے قرآن میں جگہ جگہ ، صفحہ الٹیں تو مالی قربانی کا ذکر ملتا ہے بلکہ خدا کے ساتھ بیعت کی شرط میں اس کو داخل فرما دیا۔ اِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: 111) خدا کو اتنی ضرورت تھی مال کی کہ وہ بیعت جو خدا سے ہوتی ہے اس بیعت کی دو شرطیں ہیں ان کی جانیں بھی خدا نے لے لیں ان کے مال بھی لے لئے ۔ یہ سودا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ان کو جنت نصیب ہوگی ۔ تو مال کی قربانی کا جو تعلق ہے وہ براہ راست مال کی حرص سے نہیں بلکہ مال کی حرص کے فقدان سے ہے۔ یہ مضمون ہے جس کا تقویٰ میں ذکر بیان فرمایا گیا ہے وہ قو میں جن کو مال کی حرص ہوتی ہے وہ خدا کی راہ میں خرچ کیسے کر سکتی ہیں ، وہ نظام جو مال کی حرص سے آزادی دلاتا ہے وہی نظام ہے جو مالی قربانی پر چل سکتا ہے۔ اگر مال کی حرص کی قیمت بڑھانے والا نظام ہو تو کوئی چندے نہیں دے گا۔ سب کے ہاتھ بند ہو جائیں گے مٹھیاں بند ہو جائیں گی۔ تو ایسی متضاد بات کرتے ہیں جو اگر ذراسی بھی عقل سے غور کریں تو کسی پہلو سے بھی سچی ثابت نہیں ہو سکتی ۔ اول خدا تعالیٰ جو مالک اور خالق اور قادر ہے اور رزق دینے والا ، اس کو وسعتیں دینے والا ، اس میں کمی پیدا کرنے والا ہر طرح کے اختیار رکھتا ہے وہ کہہ رہا ہے کہ تم سے جو میرا سودا ہے اس میں مال کی قربانی شامل ہے۔