خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 888
خطبات طاہر جلد 14 888 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء آسان کر دیا گیا اور اگر آسان ہونے کے باوجود تم کوشش کر کے دین پر غالب آنا چاہو گے تو تم ٹوٹ جاؤ گے، دین پر تم غالب نہیں آسکتے ۔ اس لئے وہی لفظ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاق کی تعریف میں سب سے پہلے استعمال فرمایا آنحضرت ا اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں صلى الله حسب توفیق کچھ صبح چلا کرو، کچھ دو پہر کو کچھ آرام کر لیا کرو، جیسے درخت کے سائے تلے ایک مسافر آرام کر لیتا ہے پھر شام کو سفر طے ہوتا رہے گا۔ تم آگے ہی بڑھو گے غرضیکہ کچھ آرام اور کچھ حرکت اس کے در میان رفتہ رفتہ تمھارے فاصلے کم ہوں گے لیکن ضروری یہ ہے کہ ہر رات جو آئے تمہیں پہلی حالت پر نہ پائے بلکہ اس سے آگے بڑھا ہوا دیکھے۔ ہر دن جو چڑھے وہ تمہیں پہلی حالت پر نہ پائے بلکہ اس سے آگے بڑھا ہوا دیکھے۔ الله الله آنحضرت ﷺ کی پیروی میں جو سفر ہم نے اختیار کیا ہے یہ نور کی پیروی کا سفر ہے اور ہر روز ہماری حالت بدلنی چاہئے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے جس نو رازل کی پیروی کا سفر اختیار فرمایا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى (الضحى: 5) يقيناً تیری آخرت تیرے اولی سے بڑھ کر ہے، بہتر ہے، تو وہ سفر بھی دائمی ہے۔ اس کے پیچھے چلنے والوں کا سفر بھی دائمی ہے۔ مگر سفر طے ہونے کے لئے ایسے سنگ میل راستے میں ملتے ہیں جن سے پتا چل جاتا ہے کچھ آگے بڑھے بھی کہ نہیں بڑھے اور وہ سنگ میل طے نہیں ہو سکتے جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک تفصیلی یا عمومی نظر نہ ہو۔ تفصیلی نظر کی تو کوئی انتہا نہیں۔ خلاصہ جو سیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے وہی اتنا دقیق ہے کہ اسے بیان کرتے ہوئے بھی ایک مدت چاہئے مگر چونکہ ایک لازم کام ہے اس کو سمجھے بغیر ہمارے سفر آسان نہیں ہو سکتے ۔ ہم اس رخ پر آگے نہیں بڑھ سکتے اس لئے یہ فرض جو بہر حال ادا کرنا ہوگا۔ فرماتے ہیں خلق يفتح ، خا سے مراد، فتح کہتے ہیں زبر کو توخ کے اوپر اگر ز بر ڈالی جائے تو خلق پڑھا جائے گا۔ ۔۔۔ خلق فتح خا سے مراد یہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور اس ذات کی طرف سے عطا ہوئی۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم ۔ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 194)