خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 833 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 833

خطبات طاہر جلد 14 833 خطبہ جمعہ 3 نومبر 1995ء چلے جائیں گی اور جو تک اور جو تکلیفیں خدا کی خاطر آپ اٹھاتے ہیں ان میں لذت آ ان میں لذت آنی شروع ہو جائے گی۔ پس جس کی تکلیفیں بھی خوشیاں بن جاتیں ہوں، جس کی خوشیاں بھی خوشیاں ہوں اس سے زیادہ کامیاب اور کون ہو سکتا ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور اس مضمون کی گہرائی تک ہمیں اس پر عمل کرنے کی استطاعت بخشے ۔ آمین اب مختصر وقت میں میں موازنہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ الحمد للہ کہ تحریک جدید دفتر اول کا اکسٹھواں سال اب 31 اکتوبر 1995 ء کو ختم ہوا ہے اور اب باسٹھواں سال طلوع ہو رہا ہے۔ پہلے میں دفتر اول ، دفتر دوم دفتر سوم ، دفتر چہارم کے سالوں کے متعلق یہ کہا کرتا تھا مگر میں نے سوچا ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کے دماغ Confuse ہو جائیں گے۔ دفتر خواہ چار ہوں یا پانچ ہوں سال ایک ہی ہے جو اکٹھا طلوع ہوتا ہے اکٹھا ختم ہوتا ہے۔ دفتر سے مراد صرف اتنا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے 1934ء میں پہلی بار تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک زندہ ہیں ان کے اکسٹھ سال پورے ہوئے اور باسٹھواں سال شروع ہونے والا ہے۔ یہ دفتر اول ہے۔ جنہوں نے دس سال کے بعد یا میں سال کے بعد، اس کی تفصیل اب مجھے یاد نہیں مگر مختلف وقتوں میں مختلف دفاتر کا اضافہ ہوا ہے، شمولیت اختیار کی ان کا سال اکٹھا ہی ختم ہو گا لیکن ان کی قربانی کا سال اکسٹھواں نہیں بلکہ چونتیسواں یا پچیسواں یا جو بھی صورت ہو وہ سال ختم ہوگا اور ایک نئے سال میں داخل ہوں گے ۔ پس چاروں دفاتر جو مختلف وقتوں میں جاری ہوئے ان سب کا تحریک جدید کا سال اس ماہ اکتوبر میں ختم ہوا اور اب نومبر سے نیا سال شروع ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا قدم ترقی کی جانب ہے اور پہلے سے بڑھ کر مالی قربانیاں پیش کی جا رہی ہیں۔ یہ مواز نے جب پیش کئے جاتے ہیں تو بعض سنگی مزاج لوگ اس قسم کے خط لکھتے ہیں کہ آپ کے اعداد و شمار میں صحیح تصویر ظاہر نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے Inflation کو نظر انداز کر دیا اور آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس روپے کی قیمت پچھلے سال کتنی تھی اور کو نے یہ اس سال کتنی ہے۔ اگر میں یہ بتانے لگ جاؤں تو ایک سو پچاس ملکوں کی Inflation کے تذکرے میں کئی خطبے خرچ ہو جائیں گے۔ عام باتوں کی ہر آدمی کو سمجھ ہے اس کے لئے کسی بڑے اکانومسٹ کی ضرورت نہیں ۔ مہنگائی کا احساس تو وہ ہے جو غریب سے غریب ، نادان سے نادان کو بھی ہے بلکہ اس کو