خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 795 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 795

خطبات طاہر جلد 14 795 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء اور یہ صفات مخفی نہیں ہیں ۔ مگر ان صفات کے کچھ اور بھی مظاہر ہیں جن کا انسان سے تعلق نہیں ہے، ذات باری سے تعلق ہے اور وہ لامحدود صفات ہیں۔ خدا تعالیٰ کا اس طرح ان صفات کی طرف لوٹنا جو جسمانی لوٹنا نہیں ہے بلکہ ایک تنزیہی مقام ہے گویا وہ ان صفات پر بیٹھ گیا ہے جائے۔ یہ کیا چیز ہے، اس میں حکمت کیا ہے، کیوں فرمایا گیا ہے، ان امور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام روشنی ڈال رہے ہیں ۔ فرماتے ہیں: وو ۔۔ تمام اجرام سماوی و ارضی پیدا کر کے پھر اپنے وجود کو وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام عرش ہے اور یہ ایسا نہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی چار صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورہ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پتا نہ لگتا ۔۔۔“ یعنی اس مقام اخفاء میں خدا کا چلے جانا ایسا کامل ہوتا ہے کہ اگر بندوں پر ان صفات کا جلوہ عطا کر کے اپنے تعلق کو ہمیشہ قائم نہ رکھتا تو جس مقام تنزہ میں وہ جاتا ہے اس مقام کی انسان کے وہم و گمان میں بھی طاقت نہیں تھی کہ وہاں پہنچ سکتا: یعنی ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت مالک یوم الجزا ہونا۔ سو یہ چاروں صفات استعارہ کے رنگ میں چار فرشتے خدا کی کلام میں قرار دیئے گئے چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد : 23 صفحہ: 279 ، حاشیہ ) ہیں۔ پس استعارہ معنی کئے جاتے ہیں فرشتے حقیقی معنے نہیں ہیں۔ یہ صفات ہی ہیں جن کو استعارہ فرشتے کہا جاتا ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ وو یہ چاروں صفتیں دنیا میں ہی کام کر رہی ہیں مگر چونکہ دنیا کا دائرہ نهایت تنگ ہے اور نیز جہل اور بے خبری اور کم نظری انسان کے شامل حال ہے اس لئے یہ نہایت وسیع دائرے صفات اربعہ کے اس عالم میں ایسے چھوٹے نظر آتے ہیں جیسے بڑے بڑے گول ستاروں کے دور سے صرف نقطے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھی حیرت انگیز کلام ہے جو انسانی فطرت کی پاتال میں اتر کر اس کی حقیقتیں بیان کرنے