خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 786
خطبات طاہر جلد 14 786 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء گھومنے پھرنے والے ہیں اور مجالس ذکر کے پیچھے چلتے ہیں جہاں ذکر الہی کی مجلس لگے اس کے تو وہ عاشق ہوتے ہیں گویا ہر وقت اس تاک میں رہتے ہیں کہ کہاں ذکر کی مجلس ملے تو وہ اس کے گردا کٹھے ہو جائیں اور جو ذکر کی مجلس لگاتا ہے وہ انسان ہے وہ فرشتہ نہیں ہے۔ فرماتے ہیں فاذا وجدوا مجلسا فيه ذكر جب وہ ایسی مجلس کو دیکھتے ہیں یا پاتے ہیں جہاں ذکر الہی چل رہا ہو قعد و امعهم وہ ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں پھر کیا ہوتا ہے و حف بعضهم بعضا اور ہجوم کر کے ایک دوسرے سے لپٹتے ہیں، ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں جیسے بھیڑ لگ گئی ہو اس قدر وہ ایک دوسرے کے اوپر ٹوٹ پڑتے ہیں گویا که با جنحتهم حتى يملاء ما بينهم و بين السماء الدنياوه اپنے پروں کے ساتھ جو ان کی صفات ہیں ان کے ساتھ وہ اکٹھے ہوتے ہوتے تہہ بہ تہہ اس طرح اونچے ہوتے چلے جاتے ہیں کہ آسمان تک، زمین سے آسمان تک سارے جو کو بھر دیتے ہیں اور یہ سماء الدنیا ہے۔ یعنی اس دنیا میں جب ذکر کی مجلس لگتی ہے تو چونکہ دنیا والوں سے تعلق ہے یہاں چار پروں والوں کا قصہ ہے اس لئے دنیا کے آسمان تک ان کا بیان فرمایا اس سے اوپر ان کا ذکر نہیں ملتا - يملاء ما بينهم وبين السماء الدنيا فاذا تفرقواعر جو اوصعدوا الى السماء (مسلم کتاب الذكر باب فضل مجالس الذکر ) ۔ پس جب وہ بکھر جاتے ہیں ذکر کرنے والے تو فرشتے پھر صعود کرتے ہیں رب کی طرف اور اس سے پھر تذکرہ کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کچھ دیکھا یہ مراد نہیں کہ اللہ کو علم نہیں مگر انسان کے ذکر کے گواہ بنا دیئے جاتے ہیں جس طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبح کی تلاوت وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل: 79) کہ جو فجر کی تلاوت ہوتی ہے وہ مشہود ہوتی ہے اس پر گواہ اکٹھے ہوتے ہیں اور وہ دیکھی جارہی ہوتی ہے تو دراصل مشہود سے یہ مراد نہیں کہ لوگ سن رہے ہیں ، لوگ گواہ بن گئے ہیں، وہ فرشتے جو سیارہ ہیں جو ہر وقت گھومتے پھرتے ہیں اور یہاں لفظ سیارہ کا معنی بھی اس طرح نہیں ہے جیسے سورج چاند گھوم رہے ہیں ان کی صفات ایسی ہیں کہ وہ ہر وقت نظر رکھ رہے ہیں کہاں ذکر کی مجلس ہو اور وہاں ان کی توجہ مرکوز ہو جاتی ہے اور اسی طرح تلاوت قرآن جو صبح کے وقت اٹھتی ہے وہ ایسی پیاری لگتی ہے فرشتوں کو کہ وہ ہر ایسے قاری کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں جو فجر کے وقت تلاوت قرآن کرتا ہے۔ فرمایا إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ۔ تو یہ مضمون ہے جو صفات باری تعالیٰ کا اور عرش کا مضمون