خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 764

خطبات طاہر جلد 14 764 خطبه جمعه 13 اکتوبر 1995ء کر ہوتی ہے یا تابعی پر جا کے کھڑی ہوتی ہے۔ اصطلاحاً اس کو مرفوع کہا جا سکتا ہے کہ نہیں اور مرفوع کہا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث قابل اعتماد ہوگئی۔ اب ایسی ہی ایک مرفوع حدیث عن ام سعد رضى الله تعالى عنه ام سعد سے روایت ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ عرش ایک ایسے فرشتے پر ہے۔ چار فرشتے نہیں ہیں عرش کے، ایک ہی فرشتے نے اٹھایا ہوا ہے۔ ایک ایسے فرشتے پر ہے جو موتی سے بنا ہوا ہے اور مرغ کی شکل پر ہے۔ اب چونکہ یہ مرفوع بن گئی اس لئے مولوی انہی حدیثوں کے اوپر وعظ بناتے ہیں عجیب و غریب کہاوتیں پھیلا کر اسلام کا تصور ہی بگاڑ دیتے ہیں۔ پھر فرمایا اس کے پاؤں زمین کی نرم تہہ میں ہیں اور اس کے پر مشرق میں اور اس کی گردن عرش کے نیچے ہے۔ (ابن مردود یہ بحواله در منثور سورہ المومن زیر آیت نمبر (8) صلى الله اب بتائیے یہ کلام حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا ہو سکتا ہے؟ کوئی انسان جس کی صلى الله سل سیرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نظر ہو، جس نے صحیح بخاری اور دوسری صحاح کتب کا مطالعہ کیا ہو اور صلى الله آنحضرت ﷺ کی اس پاک سیرت پر نظر ہو جو قرآن پیش کرتا ہے وہ ایک لحظہ کے لئے بھی اس کو مان صلى الله نہیں سکتا۔ اس سے بڑی گستاخی آنحضور ﷺ کی ممکن ہی نہیں ہے کہ اس قسم کی لغویات کو آپ کی طرف منسوب کیا جائے ۔ دو اور ایک اور مرفوع حدیث جس کو محققین کہتے ہیں یہ مرفوع ہے عن ابن عباس“ حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔ حضرت ابن عباس پر جو سب سے زیادہ ظلم کیا گیا ہے وہ ان لوگوں کی طرف سے کیا گیا ہے جنہوں نے آپ کا نام بیچنے کے لئے وضعی حدیثیں آپ کی طرف منسوب کر دیں۔ وہ روایت کیا ہے؟ عرش اٹھانے والوں میں ہر ایک کے کندھے اور اس کے پاؤں کے تلوے کے درمیان پانچ سوسال کی مسافت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید ذکر کیا کہ اس فرشتے کا ایک قدم مشرق سے مغرب تک ہے۔ عبد بن حمد بن مردوی والی بحوال در منور للسیوطی، سورہ المومن زیر آیت 8) ۔ اگر پانچ سو سال کی یہ مسافت ہے پاؤں کے تلووں سے اور اس کے درمیان پھر قدم تو اس سے بھی بہت زیادہ ہو گا جتنی زمین پوری کی پوری ہے۔ لیکن ایک اور حدیث بھی سن لیں حضرت عبداللہ بن عمر کی طرف منسوب ہے۔ انا الله و