خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 727
خطبات طاہر جلد 14 727 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء صبر کی ضرورت ہے۔ ایک تکلیف میں پڑے ہوئے شخص کا واویلا نہ کرنا اس کے دکھ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ وہ ماں جس کو بچے کا غم پہنچا ہوا گر وہ واویلا کرتی ہے شور مچاتی ہے تو کچھ نہ کچھ دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ لیکن اگر اپنی زبان پر تالے لگالے اور للہ لگائے تو یہ کمزوری تو ہے مگر کمزوری میں بھی ایک شان پیدا کر دیتی ہے یہ بات۔ یہ وہ صبر ہے جو تعریف کے قابل ہے جس کے متعلق قرآن کریم بار بار مومنوں کو متوجہ کرتا ہے کہ صبر کو اختیار کرو۔ تو عجیب شان ہے قرآن کی ، ایسی عظیم تعلیم ہے کہ ہماری بے اختیاریوں کو قابل تعریف بنا دیتا ہے ورنہ بے دین انسان کی بے اختیاری تو محض اس کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں مگر مومن جانتا ہے کہ اس بے اختیاری کے اندر ہی میری عظمت اور میری شان نمایاں ہے، جو میں کر سکتا تھا، خدا کی خاطر نہیں کیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ میں زیادہ کی طاقت بھی ہوتی تب بھی میں اسی طرح کا سلوک کرتا۔ یہ گواہ ہے اس بات پر یہ صبر کہ مومن کو جب غلبہ نصیب ہوگا تو وہ کسی پرظلم نہیں کرے گا۔ مومن کو جب غلبہ نصیب ہوگا تو کسی سے وہ اپنے بدلے نہیں لے گا کیونکہ بدلے کی جس حد تک بھی اس میں طاقت تھی خدا کی خاطر وہ رک گیا تھا۔ پس صبر ایک عظیم تربیتی دور ہے جس میں سے مومن کو گزارا جاتا ہے اور صبر کے بغیر اعلیٰ اخلاق کی تربیت اپنے پا یہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی ۔ وہ قومیں جنہوں نے عظیم الشان کام سرانجام دینے ہیں ن کے لئے لازم ہے کہ انہیں صبر کے رستے سے گزارا جائے اور صبر ہی کا رستہ ہے جو تمام عظیم اور الشان نتائج پیدا کرتا ہے۔ مثلاً قرآن کریم اسی مضمون کے متعلق فرماتا ہے۔ انبیاء کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ان کو امامت عطا کی ، ان کو مہدویت عطا کی۔ وَلَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَابِهِ وَجَعَلْنَهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَاعِيلَ (السجدة: 24) اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی۔ پس اس کی لقاء سے یعنی اللہ سے ملاقات کے بارے میں شک میں مبتلا نہ ہو ۔ وَجَعَلْتُهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا موجب بنایا، ہدایت کا ذریعہ بنایا ۔ سورۃ انبیاء میں اسی مضمون کی