خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 67
خطبات طاہر جلد 14 67 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء دوسری حدیث بخاری کتاب الصوم سے لی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم چاند دیکھ کر روزہ شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ یعنی عید مناؤ اور اگر دھند یا بادل کی وجہ سے انتیس کی تاریخ کو چاند نہ دیکھ سکو تو شعبان اور اسی طرح رمضان کے تیس دن پورے کرو یعنی رمضان سے پہلے مہینے کے تیس دن پورے کر لیا کرو۔ اگر چاند دکھائی نہ دے اور شبہ ہو تو اس صورت میں ایک دن آگے بڑھانے کا ارشاد ہے،جلدی کرنے کا نہیں ہے حالانکہ رمضان بہت بابرکت مہینہ ہے اور اس میں داخل ہونے کا شوق ہے۔ مگر حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے اور آپ نے نے جو جو اللہ اللہ کا کا منشا منشا سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ خواہ مخواہ نیکی دکھانے کی خاطر ایک دن پہلے روزہ نہ رکھ لیا کرو اس شک میں کہ شاید رمضان شروع عروسه d ہو گیا ہو اور یہ واقعہ ہے کہ بہت سی دنیا میں ایسے علاقے ہیں جہاں اس معاملے میں اسی طرح شدت کی جاتی ہے۔ بعض دفعہ بعض نزدیک کے علاقوں سے بھی دو دو دن پہلے روزے رکھ لئے جاتے ہیں اور یہ جو بھی ہے طبیعت کی ، یہ آخر اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ عید بھی دو دو دن پہلے منالی جاتی ہے جبکہ ابھی رمضان جاری وساری ہو۔ صلى الله تو آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو کھول کر بیان فرمایا ہے کہ جہاں چاند کا شک ہو وہاں شعبان کے تیس دن پورے کرو اور پھر اسی اصول کے تابع عید کا فیصلہ کرو۔ دو الگ الگ اصول نہیں ہوں گے پھر اگر شک ہو کہ عید کا چاند نکلا ہے کہ نہیں نکلا تو پھر پورے تمیں دن رمضان کے پورے کرو اور پھر عید مناؤ۔ اب اس دفعہ جب یہ فیصلہ ہونا تھا کہ رمضان کب شروع ہو رہا ہے تو جو کمیٹی بٹھائی گئی انہوں نے رپورٹ کی کہ غالب گمان یہی ہے کہ یکم کی رات کو رمضان کا چاند طلوع کرے گا اس لئے دوکورمضان بن سکتا ہے لیکن ایک امکان یہ بھی ہے کہ شاید ایک دن پہلے چاند طلوع ہو جائے ۔ اس پر ۔ میرے ذہن میں تو ذرہ بھی تردد پیدا نہیں ہوا یہ فیصلہ کرنے پر کہ پہلی بات کے تابع چلیں اور جس دن دیر میں چاند نکلنے کا احتمال ہے اس کو اختیار کریں، کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہی حکم ہے کہ ا کا یہی حکم ہے کہ اگر شک ہو تو پھر تمھیں دن پورے کرو۔ صلى دوسرے یہ بات بھی میں نے ان کو سمجھائی کہ آپ کا جو حساب ہے وہ درست نہیں ہے کیونکہ جو اہل علم ہیں وہ بتاتے ہیں کہ دو طرح سے چاند دیکھنے کا امکان پیدا ہوتا ہے ایک اس وقت