خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 691
خطبات طاہر جلد 14 691 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء وہ خدا سے دور کہہ رہے تھے وہ ان کو توجہ دلا رہا ہے کہ اصل فیصلے تو آسمان پر ہوا کرتے ہیں تمہاری زمینی کوششیں کیا کر سکتی ہیں۔ ایک رستہ جس طرف تمہاری نگاہ نہیں ہے ہاں اگر تم سچے ہو اور وہ رستہ کھل جائے تو میرا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا، میرا تمام سلسلہ نیست و نابود ہو جائے گا اور وہ دعا کا رستہ ہے۔ پس آپ نے فرمایا کہ تدبیریں تو کر چکے اب دعائیں کرو اور دعائیں بھی ایسی کرو کہ روتے روتے تمہاری پلکیں جھڑ جائیں، تمہاری آنکھوں کے حلقے گل جائیں ، ایسے سجدے میں ماتھے رگڑو کہ تمہارے ماتھے گھس جائیں اور ناطاقتی سے غشیوں کے دورے پڑنے لگیں مگر خدا کی قسم تمہاری ساری دعائیں بے کار جائیں گی کیونکہ میں کسی انگریز کا لگایا ہوا پودا نہیں، میں خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہوں۔ وہ جانتا ہے کہ کیسے اس پودے کی حفاظت کرنی ہے۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے میں بڑھوں گا، پھلوں گا اور پھولوں گا اور تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔ پس یہ ہے تد بیرا لہی جب وہ آسمان سے نازل ہوتی ہے تو حیرت انگیز کام دکھاتی ہے۔ پس MTA کے ذریعے بھی جو پیغام اب ان کے گھروں میں پہنچ رہا ہے بالکل بے کار ہو کے رہ گئے ہیں، منصوبے بنا رہے ہیں ، حکومتوں کی طرف دوڑ رہے ہیں، کبھی سعودیہ کی طرف نگاہ ہے کہ وہ پیسے دے، کبھی لیبیا کی طرف دوڑتے ہیں، کبھی ایران کی منتیں کرتے ہیں کہ کچھ کرو، کچھ پیسے دو، ہم بھی ایک سٹیشن کھولیں ۔ مگر سٹیشن کھولو گے تو عقل کہاں سے لاؤ گے۔ سٹیشن کھولو گے تو قرآن کا علم کیسے حاصل کر لو گے ۔ وہ جماعت جس پر خدا کے فضل نازل ہوں ، جن کے دماغ خدا نے روشن کئے ہوں ، جن کو اللہ آسمان سے علوم سکھاتا ہو، ان کا مقابلہ تم کیسے کر سکتے ہو۔ سٹیشن کھولو گے تو اور زیادہ لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں گے کیونکہ جو ٹیشن بھی تم بناؤ گے اگر عالمی بھی ہو اور دن رات بھی چلے تو اگر ان میں ناچ گانا نہ ہوا تو کسی نے سنا ہی کچھ نہیں اور جو گندی گالیاں دیتے ہو کتنی دیر دو گے۔ کچھ دنوں کے بعد لوگوں کے دل بھر جائیں گے، لوگ کراہت کرنے لگیں گے یہ کیا داڑھیوں والے مولوی روزانہ آکر ہر وقت منہ سے جھاگیں نکالتے اور بکواس کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انسانی فطرت ہے یہ اس کا جواب میں بتا رہا ہوں میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا۔ ان پر ہی کل لوگ لعنتیں ڈالیں گے یہ تم نے سٹیشن کھولا ہے اس پر اتنا خرچ کر رہے ہو قوم کا، نہ کوئی سنے گا ریڈیوسٹیشن ان کے چلتے رہیں، ٹیلی ویژن چلتے رہیں اور سیٹ ہی نہ چلیں تو کن تک یہ آواز پہنچے گی مگر جماعت احمد یہ کا ٹیلی ویژن ہے اللہ کے **