خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 675
خطبات طاہر جلد 14 675 خطبه جمعه 8 ستمبر 1995ء نصیب نہیں ہو سکتا۔ پس بات گھوم کر پھر وہیں پہنچ جاتی ہے کہ اگر آپ نے ہر مقام محمود میں داخل ہونے کے بعد ہر مقام ہر مقام محمود سے ایک اور مقام محمود میں نکلنے کی دعا کرنی ہے تو یاد رکھیں اس دعا کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے، اس مضمون کی نوعیت کو گہرائی سے سمجھنا ہوگا، اس کا عرفان حاصل کرنا ہو گا ورنہ یہ بات ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔ پس ان باتوں کو سمجھتے ہوئے میں کو سمجھتے ہوئے میں تمام عالمگیر جماعتوں سے دعا کی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے لئے بھی اور ہم سب کے لئے بھی دعا کریں جو میں نے ابھی آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے سے لے کر آخر تک اس دعا میں جب آپ کہتے ہیں صدق کے ساتھ داخل فرما تو اس بات کو شامل کر لیں کہ ایسے صدق میں تلاوت قرآن کریم بھی تھی ، اس صدق میں راتوں کو صبح میں تبدیل کرنے کی طاقت بھی موجود تھی ، اس صدق میں راتوں کو اٹھ کر خدا کے حضور تہجد کرنے کی توفیق بھی شامل تھی اور ایسے تہجد ادا کرنے کی توفیق شامل تھی جس کے بعد عرش سے لازمی طور پر یہ وعدہ اترتا ہے کہ تجھے خدا ضرور مقام محمود میں داخل فرمائے گا اور جب داخل فرمائے گا تو پھر اس سے نکلنے کی دعا کرنا مگر صدق کے ساتھ اور جب صدق سے اس سے نکلنے کی دعا کرو گے تو یاد رکھنا کہ سُلْطنًا نَّصِيرًا کی دعا نہ بھولنا کیونکہ جتنی منزلیں بلند ہوتی چلی جائیں اتنے ہی خوف بھی لاحق ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اتنے ہی مزید طاقتور اور غالب مددگاروں کی بھی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اتنے ہی حسد بھی بڑھتے جاتے ہیں، دشمنیاں بھی پہلے سے بڑھ کر آپ کو ہلاک کرنے کی تمنائیں کرتی ہیں ، آپ کو گزند پہنچانے کی راہوں میں بیٹھتی ہیں ، دن رات کوشش کرتی ہیں کہ کسی طرح ان کے بڑھتے ہوئے قدم روک لیں۔ پس وہ منظر بھی اب ابھر کر سامنے آتا چلا جا رہا ہے۔ پہلے سے کئی گنا زیادہ مشتعل ہو کر جماعت کے دشمن منصوبے بنا رہے ہیں کہ کسی طرح آپ کی ترقی کی راہیں روک لیں اور آپ کی راہ میں ایسی کمین گاہوں میں بیٹھیں کہ آپ کو کچھ خبر نہ ہو اور وہ اچانک آپ پر حملہ آور ہوں اور ان چیزوں کے منصوبے بنانے کی قطعی معین اطلاعیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہنچادی ہیں ۔ پس اس مضمون کا سُلْطنًا نَصِيرًا سے ایک اور تعلق بھی قائم ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ دعا مانگو اللہ سے کہ جہاں دشمن طاقتور ہے اور دنیاوی طاقتوں کے بل بوتے پر، دنیاوی سلطانوں کے بل