خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 658
خطبات طاہر جلد 14 658 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء چاہتا ہے کہ اس کی خاطر خرچ کرو مگر احسان کو نہ بھولنا۔ خدا کی خاطر خرچ کرنے والے ایسے محسن ہوتے ہیں کہ اس کی مخلوق پر بھی خرچ کرتے ہیں، ان کا بھی خیال رکھتے ہیں اور ایسے وسیع معنوں میں احسان کرنے والوں سے اللہ ضرور محبت کرتا ہے۔ وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مال کے خرچ کے ذکر میں آگے فرماتے ہیں ” جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔ دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شئے ہے اور اس آیت میں لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ اس ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔ پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقوی شعاری کا معیار اور محک ہے۔ (محک پتھر کی کسوٹی کو کہتے ہیں ۔ ) ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں للہی وقف کا معیار اور ملک وہ تھا جو رسول اللہ ﷺ نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاثه البیت لے کر حاضر ہو گئے۔ لملفوظات جلد اول صفحہ 368-367) آپ کی جو کسوٹی تھی محبت پر کھنے کی وہ یہ یہ آپ کے کردار کے نمونے دکھاتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے دینی ضرورتوں کے لئے اموال کے خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی اور صلى الله الله آپ کل اثاثہ البیت لے کر حاضر ہو گئے جو کچھ تھا سب سمیٹا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر کر دیا۔ پھر فرماتے ہیں : وو ” جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنے اس مال عزیز کو ترک کرتا ہے جس پر اس کی زندگی کا مدار اور معیشت کا انحصار ہے اور جو محنت اور تکلیف اور عرق ریزی سے کمایا گیا ہے تب بخل کی پلیدی اس کے اندر سے نکل جاتی ہے۔ یعنی مال کا خرچ جو بخل کی پلیدی کو نکالتا ہے وہ حقیقت میں وہ مال ہے جس پر اس کی محنت کو