خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 611
خطبات طاہر جلد 14 611 خطبه جمعه 18 را گست 1995ء بہت زیادہ اس کو لوٹا دے۔ ایسا بھی ہوتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے مگر ان لوگوں کے لئے یہ تسکین بخش ہے جن کی نیت یہ نہیں ہوتی۔ نیت ایک نیک کام پر خرچ ہے، اللہ کی رضا کی خاطر خرچ ہے، ایسا خرچ ہے جو تسکین بخشتا ہے وہ دنیا کا کوئی اور خرچ نہیں بخش سکتا۔ اب بعض دفعہ کسی ایک غریب کو روٹی کھلا کر جو حاجت مند ہو اور آپ کی آزمائش ہو آپ نہ بھی کھلا سکتے ہوں اپنا حق چھوڑ کر اس کو کھلا رہے ہوں ، چھوٹا سا ایک واقعہ گزر جائے آپ کی ساری زندگی کا سرمایہ بن جائے گا۔ موت کے کنارے پر بھی جب آپ سوچیں گے کہ شاید میرے لئے کوئی چیز نجات کا موجب بن جائے تو یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ابھر کے آپ کی آنکھوں کے سامنے آ جائے گا کہ اور تو میں کچھ نہیں کر سکا شاید یہی چیز مجھے ہلاکت سے بچالے اور اللہ کے نزدیک میں قابل بخشش ٹھہروں تو نیکیوں کا اجر ضروری نہیں کہ جسمانی طور پر دکھائی دے یا مادی رنگ میں عطا ہو۔ وہ اجرو ہیں ملنا شروع ہو جاتا ہے جہاں نیکی نے عمل دکھایا ہو اور باقی اجر مٹ جاتے ہیں ، کہانیاں بن جاتی ہیں یا ایک ہاتھ سے آئے دوسرے ہاتھ سے نکل گئے۔ لیکن نیکیوں کے اجر مستقل، نہ مٹنے والی تجارت بن کر ساتھ رہتے ہیں۔ وہ جو ایک یہ بھی معنی ہے لَنْ تَبُور نیکیوں کے مزے، ان کی لذتیں ، ان کی تسکینیں طمانیت بخش جاتی ہیں وہ نہ ختم ہونے والی ہیں اور جن کو اس کی عادت ہو، جن کی ساری زندگی اس میں کئی ہو، ان کی تو موجیں ہی موجیں ہیں ۔ دشمن سمجھتا ہے کہ بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں اللہ کے انبیاء اتنے پیارے دیکھو کتنے دکھ دیئے جا رہے ہیں۔ مگر جن کے ہاں صبح سے شام تک خیرات بٹتی ہو ان کی تسکین کا کوئی دوسرا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس لئے یہ وہ تجارت ہے جس کے متعلق فرشتے دعائیں دیتے ہیں کہ اے اللہ ان کے مال کو بڑھاتا چلا جا، ان کی تسکین کو بڑھاتا چلا جا، وہ غلام عطا کر دے ان کو جوان جیسے ہی بننے شروع ہو جائیں۔ الله پس آنحضرت ﷺ کے حق میں سب سے زیادہ یہ دعا ئیں سنی گئی ہیں فرشتوں کی ۔ دیکھو کیسے کیسے آپ نے خرچ کرنے والے پیدا کئے ہیں اور ایسے خرچ کرنے والے جو رضائے الہی کے سوا کسی اور طرف مال کی خاطر کسی آنکھ سے دیکھتے ہی نہیں تھے، نظر بھی نہیں کرتے تھے اس طرف ۔ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ (الفتح: 30) ان کا نقشہ کھنچتے ہوئے فرماتا ہے يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانا ان کو پھر دنیا کمانے کی کوئی غرض نہیں رہتی ۔ دنیا بھی کماتے ۔