خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 595
خطبات طاہر جلد 14 595 خطبہ جمعہ 11 را گست 1995ء یا د رکھیں کہ اس آیت کے اندر اس بات کا جواب موجود ہے ۔ وہ لوگ جو ریا کی خاطر ظاہر کرتے ہیں وہ چھپ کر نہیں دیا کرتے۔ کبھی بھی وہ چھپ کر نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے تحفہ بھی دینا ہو کسی کو تو لوگوں کی موجودگی میں دکھا کر دیں گے یا بہت بڑے بڑے پیکٹ بنا کر دیں گے تا کہ لوگوں کو پتا لگے کہ بڑی چیز جا رہی ہے۔ شادی بیاہ پہ اعلان ہو رہے ہیں، لکھے جا رہے ہیں ، بڑے بڑے پیکٹ پیش کئے جا رہے ہیں تا کہ دنیا کی نظر میں آجائیں ۔ چھپ کر دینے کی تو ان کو توفیق ہی نہیں ہوتی ۔ پس سرا کی شرط ساتھ لگا دی ہے۔ تب فرمایا ان کا اجر اللہ پر ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ چھپ کر دیتے ہیں اگر ان کی ریا کی تمنا ہوتی تو چھپ کر دیتے ہی نہ صرف اعلانیہ دیتے ۔ جو رات کو تہجد کے وقت اٹھتا ہے اس کی صبح کی نماز سچی ہو جاتی ہے۔ اس وقت اس کو کسی نے دیکھا تھا۔ پس ان کا چھپنا ان کے ظاہر کی حفاظت کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ظاہر میں بھی اور نیتیں ہیں تاکہ ایک دوسرے سے بڑھیں ، استباق کی روح پیدا ہو اور تحریک عام ہو جائے ورنہ اگر سارے چندے ہی چھپ کے دیئے جائیں تو جو کمزور رفتہ رفتہ ہمارے ساتھ شامل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ محروم ہی رہ جائیں گے۔ تو ظاہر کرنا بعض دفعہ دکھاوے کی خاطر نہیں ہوتا بلکہ ایک نیکی کی تحریص اور تحریک کی خاطر ہوتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کے متعلق یہ شرط لگا کر کہ ظاہر تو کرتے ہیں مگر چھپ کر بھی ضرور کرتے ہیں اور اس کو خدا تعالیٰ اس طرح باندھتا ہے پہلے سِرا کا ذکر کیا ہے پھر علانیہ کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رات کا ذکر فرمایا ہے پھر دن کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی اولیت ان کے ہاں یہ ہے کہ جو کچھ ہم دیں خدا کی خاطر مخفی ہی رہے کسی کو نہ پتہ چلے۔ لیکن پھر دن کے وقت بھی قربانیوں کے تقاضے ہوتے ہیں ۔ روشنی کے وقت بھی کچھ قربانیاں کرنی پڑتی ہیں ان سے پھر وہ پیچھے نہیں رہتے ۔ فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب پر ہے، ان کے رب کے پاس ہے۔ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمُ يَحْزَنُونَ ان کو کوئی خوف نہیں ہے اور کوئی صدمہ ان پر غالب نہیں آسکتا۔ کوئی خوف ان پر غالب نہیں آ سکتا اور وہ کسی صدمہ میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ یہاں جو لفظ عِنْدَ رَبِّهِمْ ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ اس سے پہلے جو خدا نے واپس کیا اور بڑھا چڑھا کر دیا اور برکتیں عطا کیں وہ آئندہ کے کھاتے میں سے کاٹا نہیں جائے گا۔ وہ کھاتہ اسی طرح کا اسی طرح پورا رہا ہے اس میں سے منہا کچھ بھی نہیں ہوا۔ تو خدا نے ان کا اجر جو اپنے ذمے لگا رکھا ہے وہ سب کچھ واپس کرنے کے باوجود وہ اسی