خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 572
خطبات طاہر جلد 14 572 خطبہ جمعہ 14 اگست 1995ء بن جائے گا کیونکہ ایسی دعا ئیں جو تکلیف دینے والے کے لئے کی جاتی ہیں اور اس کو پتا بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ایسی دعاؤں کو زیادہ قبول فرماتا ہے۔ ”۔ تم اپنے پاک نمونہ ،صاف چال چلن سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔۔۔ اب یہ بھی بہت ہی اہم نصیحت ہے۔ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ تم بد ہو گئے ہو، تو بد ہو کر تمہیں پاک رسمیں کیسے نصیب ہو گئیں اچھی راہ کیسے مل گئی۔ پس نیکیوں میں آگے بڑھو اور ایسا پاک نمونہ دکھاؤ کہ دشمن خود دیکھ لے اور سمجھ لے کہ اس نے جو بھی راہ اختیار کی ہے وہ اچھی ہے اور ہم سے بہتر انسان بن رہا ہے اور بسا اوقات رشتے داروں میں تبلیغ میں سب سے موثر ذریعہ یہی بنتا ہے۔ جب وہ تکلیفیں دینے والے تکلیفیں دے رہے ہیں ، جواباً کوئی سختی کا عمل نہیں دیکھتے بلکہ ضرورت کے وقت کام آنے والا بیٹا یہی ثابت ہوتا ہے جو احمدیت اختیار کرنے کے نتیجے میں ان کی طرف سے کاٹا گیا تھا۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ پہلے سے بڑھ کر با اخلاق ہو گیا ہے، نمازوں پر قائم ہو گیا ہے، غریبوں کا ہمدرد ہو گیا ہے، بنی نوع انسان کی بھلائی چاہتا ہے تو ایسے نیک نمونے کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور زبانی تبلیغ کے مقابل پر ایسے شخص کا پاک نمونہ بہت زیادہ قوی اور موثر تبلیغ بن جاتا ہے۔ ”۔۔۔ دیکھو میں اس امر کے لئے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں۔۔۔“ اب ما مور تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ہی لیکن خصوصیت کے ساتھ اس امر پر مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں۔ یہ ماموریت کا بار بار کے ساتھ جو تعلق ہے یہ صلى الله دراصل وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں آنحضرت میا کے تعلق میں بیان ہوا ہے عليس فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى (الاعلیٰ : (10) اور فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُ (الغاشية: 22) ان دونوں آیتوں کو اکٹھا پڑھیں تو صاف پتا چلتا ہے کہ بار بار نصیحت کرنا ایسا کہ اس کی شخصیت کا نام مذکر بن جائے ہمستقل مذکر ہی کہلائے ، یہ وہ امر ہے جس پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو مامور فرمایا گیا تھا۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں بھی قرآن ہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور قرآن ہی سے پھوٹتی ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں میں اس بابت مامور کیا گیا ہوں کہ تمہیں اس