خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 49

خطبات طاہر جلد 14 بڑا نمایاں ہے۔ 49 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء پس اس پہلو سے سب سے اہم نکتہ تربیت کا جو آپ کو یا د رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اللہ سے سچا پیار رکھیں اور خدا کے پیار سے برعکس کوئی رعب اپنے دل پر نہ پڑنے دیں۔ یہ ساری چیزیں بے معنی اور بے حقیقت ہیں ۔ میں نے آپ کو بارہا مثالیں دی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی جو اصل شان تھی ، جو نوران میں چمکتا تھا جس نور سے وہ رستہ دیکھتے تھے اور رستہ دکھاتے تھے وہ یہی اللہ کا رعب تھا ۔ غیر اللہ کا کوئی رعب ان کے اوپر اثر انداز نہیں تھا ۔ سادہ کپڑوں میں ، پھٹی پرانی جوتیوں میں ، ایسے لباس میں جس کے اندر قمیص کا شلوار سے جوڑ نہیں ، کوٹ کا اندر کے کپڑوں سے جوڑ نہیں، جرا میں اور رنگ کی اور سوٹ اور رنگ کے پہنے ہوئے کبھی سوٹ بھی پہن لیتے تھے، کبھی سادہ عام تہبند باندھ کے پھرتے تھے لیکن یہ نظر آتا تھا کہ لباس ان پر اثر انداز نہیں ہورہا۔ جو لباس پہنتے ہیں اس پر وہ اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ مجنوں سے دشت کو رونق تھی ۔ دشت مجنوں پر اثر انداز نہیں ہوتا تھا۔ پس جو بھی وہ لباس پہنتے تھے اس لباس میں اچھے لگتے تھے اور لباس ان سے رونق پاتا تھا اور عزت پاتا تھا۔ یہ وہ رعب ہے جو خدا کا رعب ہے اگر یہ قائم رہے تو غیر اللہ کا رعب پھٹک نہیں سکتا پاس۔ پس ان صحابہ کی جو شان ہم نے بچپن میں دیکھی اور ہمیشہ کے لئے دلوں پر نقش ہو گئی وہ یہی شان تھی کہ وہ غیر اللہ سے بے نیاز پھرا کرتے تھے گویا وجود ہی کوئی نہیں ہے اور اس ذات میں مگن، اس خیال میں مگن ان کی نسلوں کی اچھی تربیت ہوئی مگر بعض اوقات استثناء وہاں بھی دکھائی دیئے۔ وہ استثناء بھی بعض بنیادی تعلیمات سے غافل ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ بعض دفعہ ایک نیک آدمی نیکی میں اتنا انہماک کر لیتا ہے کہ وہ دوسرے حقوق ادا نہیں کرتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں تو ساری عمر اب روزے رکھنے کا فیصلہ کر چکا ہوں ۔ ایک نے کہا کہ میں اتنی نمازیں پڑھا کروں گا ساری رات جاگا کروں گا وغیرہ وغیرہ۔ ہر موقع پر آنحضرت ﷺ نے ان کو منع فرمایا اور کہا کہ تم زبردستی خدا کو خوش نہیں ز صلى الله کر سکتے ہم اپنا نقصان اٹھاؤ گے، خود اپنا نقصان کرو گے اور فرمایا تمہارے بیوی بچوں کا بھی تم پر حق ہے ان کا بھی خیال کرو۔