خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 508

خطبات طاہر جلد 14 508 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء کرنے والی ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اے دل تو نیز خاطر ایناں نگہدار کاخر کنند دعوی حب پیمبرم در نمین فارسی: 107) الله اے دل تو ان لوگوں کی طرف نگاہ کر کہ آخر میرے آقا محمد رسول اللہ ﷺ قا محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کا دعوی تو کرتے ہیں۔ پس اس بد دعا کی اجازت کو میں نے مخصوص کر دیا تھا اور اس میں یہ دلیل قائم کی تھی کہ قوم کی ہمدردی بعض دفعہ قوم کو نقصان پہنچانے والوں کے لئے بددعا کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو مسلسل قوم کی ہلاکت کے سامان کر رہے ہیں جن کے ہوتے ہوئے نحوستیں ہی نحوستیں پھیل رہی ہیں، جن کے ہوتے ہوئے شر بڑھ رہے ہیں اور مصیبتیں عام ہو گئی ہیں جن کے ہوتے ہوئے خیر اٹھتی چلی جا رہی ہے اگر ان پر بددعا کی جائے تو یہ بھی درحقیقت جذبہ رحم ہی سے پھوٹنی چاہئے قوم پر رحم ان کے لئے بد دعا کا تقاضا کرتا ہے۔ پس اپنے دل کو ٹٹول کر ، اپنی نیتوں کو صاف ستھرا کر کے وہ کام کریں جو انبیاء کی سنت کے مطابق ہوں اور الہامات میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان کے اشارے پائے جاتے ہوں یا بعض دفعہ صریحاً ان کی ہدایت پائی جاتی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا انتظار کریں وہ ضرور ظاہر ہوگی پس تبلیغ کے جس دور میں ہم داخل ہوئے ہیں یہاں خصوصیت سے صبر کی ضرورت ہے اور صبر کے بغیر کوئی تبلیغ کامیاب ہو ہی نہیں سکتی ۔ صلى الله اللہ کا نام قرآن میں صبور اس لئے نہیں ہے کہ اس میں بعض دفعہ بے اختیا ریاں ، مجبوریاں، قابل رحم حالت کا ہونا ، یہ مضامین اتنے زیادہ پائے جاتے ہیں کہ لوگوں کے لئے غلط فہمی کا امکان تھا مگر آنحضور ﷺ عليسة۔ نے قرآن ہی سے استنباط کرتے ہوئے آپ کا ایک نام صبور ضرور بیان بیان فرمایا فرما ہے اس حوالے سے ہمیں صبور بنا ہو گا اور وہ صبور بننا طاقت ۔ اور وہ صبور بننا طاقت کے باوجود صبر دکھانا ہے کمزوری کا صبر نہیں ہے اور اس پہلو سے جماعت کو یا درکھنا چاہئے کہ اگر مظلوم ہوں، مجبور ہوں ، بے اختیار ہوں اور کہیں کہ ہم صبر کر رہے ہیں تو یہ صبر ، صبر تو ہو گا مگر بے حقیقت اور بے معنی ، ایک کمزوری کا نشان ہے۔ صبر وہ ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ ہمارے گناہوں پر صبر کرتا ہے، ہمیں کچلنے کی طاقت رکھتا ہے لیکن رک جاتا ہے۔ ان معنوں میں وہ صبور ہے پس جب بھی یہ لوگ بعض جگہ اقلیتیں بن جائیں گے اور بن رہے ہیں جب بھی یہ مخالف آپ کے رحم و کرم پر ہوں اس وقت ان سے حسن سلوک کرنا اور انتقامی کارروائی نہ کرنا یہ