خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 409 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 409

خطبات طاہر جلد 14 409 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء ۔ سنی ہے اب وہ بالکل برعکس ہے جو میں پہلے سنا کرتا تھا۔ اس لئے مجھے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے اور جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان سے مجھے اتفاق ہے لیکن میرے بعض سوالات ہیں وہ سوالات بھیجوا دیں تا کہ ہیں سے مجھے وہ کسی وقت ان کا جواب دیں تو میں پھر ان کے جوابات سے اپنی تشنگی دور کر سکوں ۔ اس مضمون کا ایک دیں تو با تفصیلی خط تھا مگر افسوس جو تاریخ انہوں نے دی تھی۔ اس تاریخ کے بعد خط مجھے ملا ہے کہ اس تاریخ کو خصوصیت سے وہ ہماری مجلس سوال و جواب میں میرے جواب سننے کے لئے آئیں گے لیکن خطبات تو ہر جگہ ریکارڈ بھی ہوتے ہیں۔ اگر یہ خطبہ ان تک پہنچے جن دوست نے مجھے خط لکھا تھا تو اس کا جماعت سے ریکارڈ لے کر ان کو اس میں شامل کر لیں ۔ ان کا سوال یہ تھا کہ صفات باری تعالیٰ کے علم کی ہمیں ضرورت کیا ہے؟ اسماء باری تعالیٰ ایک مضمون ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی ہر پہلو سے قابل تعریف ہے۔ اس کی بعض صفات حسنہ ہیں اگر ہم ان کو نہ معلوم کریں تو ہمارا کیا نقصان ہے ؟ اس کا تفصیلی جواب تو یہاں دینے کا وقت نہیں میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صفات باری تعالیٰ کے علم کے بغیر انسان ترقی کر ہی نہیں کر سکتا۔ کسی پہلو سے بھی انسان روحانی ارتقائی سفر طے نہیں کر سکتا جب تک صفات باری تعالیٰ سے وہ واقف نہ ہو اور اس کے مضمون کو سمجھے نہیں ۔ وہ چونکہ جس طرح ان کا خط تھا اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ بہت ذہین آدمی ہیں مگر وہ چاہتے یہ ہیں کہ مضمون اس طرح بیان کیا جائے کہ عامتہ الناس کو بھی سمجھ آئے۔ اس لئے میں زیادہ تفصیلی اور گہرائی سے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ مختصراً صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسانی اور حیوانی زندگی کا ارتقاء صفات باری تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس سے پہلے جو بھی موجودات تھیں وہ نہ سمیع تھیں نہ بصیری تھیں اور جانور بھی اگر سنتا تھا تو اس کا سننا فہم اور ادراک کے لحاظ سے اسے کوئی زیادہ فائدہ نہیں دیتا تھا کیونکہ بیان نصیب نہیں تھا ، زبان نہیں تھی ، اس لئے اکثر سننا اس کا آوازیں ہی تھیں اور دیکھنا بھی اس کے لئے کوئی بہت زیادہ فائدہ بخش نہیں تھا کیونکہ وہ دیکھ کر اس کی کنبہ کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اس کے پس منظر میں جو باتیں ہیں ان کا شعور نہیں رکھتا تھا۔ تو ارتقائی سفر میں خدا تعالیٰ نے سب سے زیادہ جو نمایاں نعمت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ دیکھو انسان کس طرح ماں کے پیٹ میں مختلف حالتوں سے گزرا ہے اور اس کی کچھ بھی حالت نہیں تھی ابتداء میں ۔ فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ( الدهر : ٢) پیدا ہوا ہے تو سننے والا بھی ہے اور بولنے والا بھی ہے۔ تو سمیع اور بصیر صفات باری تعالیٰ کے سمجھنے