خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 206
خطبات طاہر جلد 14 206 خطبہ جمعہ 24 مارچ 1995ء ہے۔ پس خدا کی ہر صفت سے ایک رابطہ قائم ہوتا ہے اللہ سے اور اس صفت سے رابطہ تب قائم ہوتا ہے اگر اس جگہ آپ اس صفت کو اپنی ذات اس صفت کو اپنی ذات میں جاری کرتے ہیں کسی حد تک ضرور جاری کرتے ہیں تب رابطہ بن سکتا ہے ورنہ بے جوڑ رابطہ نہیں ہو سکتا۔ بے جوڑ رابطہ تو دنیا میں بھی ہمیں نظر آتا ہے عام مادی دنیا میں بھی بعض چیزوں کا بعض چیزوں سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا وہ پیوند نہیں کھا سکتیں۔ اب لکڑی کو آپ نے کبھی بھی کسی میٹل میں ویلڈ ہوتے نہیں دیکھا ہوگا۔ جو مرضی کر لیں ٹھنڈا ویلڈ بھی ہو جاتا ہے لکڑی ویلڈ نہیں ہو سکتی مگر میٹل میٹل کے ساتھ ویلڈ ہوتی ہے۔ گوشت لکڑی کے ساتھ ویلڈ نہیں ہو سکتا۔ تو ہر چیز کے کچھ تعلقات کے دائرے ہوتے ہیں وہ تعلقات قائم ہو جائیں تو پھران تعلقات کے ذریعے سے پیوند قائم ہوتے ہیں اور وہ صفاتی تعلقات ہوتے ہیں بعض چیزوں کی بعض صفات ہیں ملتی جلتی صفات کے پیوند قائم ہوا کرتے ہیں اور متضاد صفات کے پیوند قائم نہیں ہوا کرتے ۔ پس اللہ کے اسم اعظم سے استفادے کے لئے اس کی صفات کے ساتھ پیوند لازم ہے اور پیوند تب ہوگا اگر آپ کی ذات میں وہ صفات جاری ہوں گی ورنہ پیوند نہیں ہو سکتا۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی اسم اعظم پر اسی رنگ میں روشنی ڈالی ہے اور محض ایک نام بیان کر کے یہ نہیں فرما دیا کہ یہ نام ہے یہ لے لیا کرو تو اسم اعظم ہو جائے گا۔ وہ حدیث یہ ہے۔ دونوں باتیں آنحضرت ﷺ سے ثابت ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ صلى الله الله ہی کو اسم اعظم قرار دیا مگر صفات کے حوالے سے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: عن اسماء بنت يزيد قالت قال رسول الله الله اسم الله في هائين الايتين والهكم اله واحد لا اله الاهو الرحمن الرحيم وفاتحة سورة آل عمران ۔۔۔ (سنن ابن ماجه كتاب الدعاء ) صلى الله اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے وَالهَكُمْ الهُ وَاحِدٌ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وہ رحمان اور رحیم ہے اور دوسری آیت یہ بیان فرمائی کہ آل عمران کی پہلی آیت جو یہ ہے اللَّى اللهُ لَا إِلَهَ لا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ( آل عمران 2 تا 3) کہ اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ حی ہے اور قیوم ہے خودا اپنی ذات میں زندہ ہے اور