خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 200

خطبات طاہر جلد 14 طور پر ہے۔ 200 صلى الله خطبہ جمعہ 24 مارچ 1995ء چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آدم کو جو اسماء سب سے پہلے سکھائے گئے وہ دو اسماء تھے محمد اور احمد کیونکہ پیدائش کی غایت گویا پیدائش عالم کا مقصود محمد رسول اللہ اور احمد رسول اللہ تھے یعنی آپ کی یہ دو صفات تھیں جن کی وجہ سے کائنات کو پیدا کیا گیا ہے تو اب دیکھیں وہاں بھی اسماء باری تعالیٰ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے وہ مخلوق جو اسماء کے قریب تر پہنچی ہے، جس سے بڑھ کر کبھی کوئی شخص اسماء کا واقف نہیں ہو سکا اس کا ذکر پہلے بتایا گیا ہے اور ان معنوں میں فرشتوں کو لا جواب کر دیا گیا۔ اگر محمد رسول اللہ کی صفات ہی وہ نہیں سمجھ سکتے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی صفات کا احاطہ کرنا تو کسی مخلوق کے بس کی بات نہیں سوائے اللہ کے جس نے یہ تنہا معجزہ پیدا کیا ہے۔ معجزے تو بے شمار ہیں مگر یکتا معجزہ جس کا کوئی شریک نہ ہو مخلوق میں اس جیسا کوئی اور نہ ہو، یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسماء کے حوالے سے اور آدم کے حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے جو دو نام بتائے گئے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک اسماء باری تعالیٰ اول طور پر آدم کو سکھائے گئے ہوتے تو یہ ناممکن تھا کہ اسماء باری تعالیٰ کا آغاز محمد اور احمد سے کیا جاتا۔ اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ انکشاف بہت واضح اور قطعی ہے کہ پہلے آدم کو مخلوق کے اسماء دیئے گئے اور وہ آدم اول ہے یعنی ان معنوں میں کہ سب سے بڑھ کر اور سب سے پہلے ہے اپنے خدا تعالیٰ کے علم اور خدا تعالیٰ کی جو دائمی کتاب ہے، کتاب مکنون ، اس میں جو موجود ہے ہمیشہ سے وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اپنے دونوں ناموں کے اعتبار سے محمد اور احمد ۔ ب سوال یہ ہے کہ اگر یہ اسم جامد ہے تو وہ بات تو میں نے سمجھا دی کہ اسم جامد ہو۔ با وجود معانی رکھتا ہے اور وہ تمام معانی اس میں موجود ہیں جو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے یا جن کے اندر وہ معانی بھی موجود ہیں جو قرآن میں ظاہر ا بیان نہیں ہوئے مگر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کا علم دیا گیا اور قرآن کے معانی سے باہر نہیں ہیں بلکہ اسی کی شاخیں ہیں ۔ تو اس پہلو سے اللہ کے نام پر غور کرتے ہوئے جو پہلی بنیادی صفات ابھرتی ہیں وہ دو ہیں الرَّحْمٰن اور الرَّحِيمِ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہی دو صفات کے حوالے سے محمد اور احمد کا عرفان پیش کیا ہے۔ سے محمد کا آپ کو جو محمد اور احمد ناموں کا عرفان عطا ہوا ۔ آپ نے ان کا تعلق محمد گار رحمان سے باندھا