خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 157
خطبات طاہر جلد 14 157 خطبہ جمعہ 10 مارچ 1995ء خدا تعالیٰ کا زمانہ ہونے کا تصور قرآن کے مطابق خدا تعالیٰ کی ذات پر غور کریں ۔ ( خطبه جمعه فرموده 10 / مارچ 1995ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔ بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ أَنِّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ذَلِكُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيْلٌ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٌ )105 الانعام: 102 تا( - پھر فرمایا :۔ عید پر میں نے اپنی ایک رویا کے حوالے سے اسماء باری تعالیٰ کا مضمون شروع کیا تھا جو وقت کی رعایت کے مطابق بنیادی طور پر میں نے اس کا آغاز تو کر دیا تھا مگر بہت سی باتیں ایسی تھیں جو ابھی تشنہ رہ گئی تھیں۔ مگر اس سے پہلے میں ان آیات کی تلاوت کی حکمت بتانا چاہتا ہوں جو میں نے