خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 8
خطبات طاہر جلد 14 8 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء وفادار اور حقیقت معاملہ نہیں ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ تم سے کیا قربانیاں مانگ رہا ہے اور اس کے کیا نتیجے نکلیں گے۔ وہ بچہ جس کو ماں باپ پر اعتماد ہو، یہ ہو نہیں سکتا کہ ماں باپ اس کو کہیں تو اگر وہ سچا وفادار اور وہ میں ماں باپ پر اعتماد کرنے والا ہو تو آگے سے بخشیں کرے کہ نہیں یہ میرے لئے ٹھیک نہیں ہو گا بعض بڑی عمر میں آکر ایسی بحثیں کرتے ہیں وہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر بچے تو آنکھیں بند کر کے جو ماں باپ کہتے ہیں یہ اچھا ہے اگر انہیں ماں باپ سے پیار ہے تو وہ چل پڑتے ہیں اس رستے پر اور وہ اچھا ہی ہوتا ہے مگر کبھی ماں باپ غلطی بھی کر جاتے ہیں لیکن اللہ تو غلطی نہیں کرتا ۔ اللہ فرما رہا ہے میں تو اس طرح غلطیوں سے پاک ہوں اور تمہاری ایسی بھلائی میرے پیش نظر ہے کہ تمہارے لئے تو یہی قانون جاری ہونا چاہئے فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جہاں تک توفیق ملتی ہے وَاسْمَعُوا وَ أَطِيعُوا سنو اور اطاعت کرتے چلے جاؤ۔ سنو اور اطاعت کرتے چلے جاؤ وَأَنْفِقُوا خَيْرًا الْأَنْفُسِكُمْ اور انفاق کرو۔ یہاں یہ نہیں ہے کہ خَيْرًا لأَنْفُسِكُمْ مگر ترجمہ یہی بنتا ہے میں اس کا ہمیشہ یہ ترجمہ کیا کرتا تھا أَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ تم انفاق اللہ کی راہ میں کرو تمہارے نفسوں کے لئے بہتر ہے اور بعض دفعہ کسی کو خیال آتا ہوگا کہ یہ بات تو گرائمر کے لحاظ سے ٹھیک نہیں بنتی کیونکہ اَنْفِقُوا کا خیر اگر مفعول بہ ہو تو أَنْفِقُوا خَيْرًا کا مطلب ہے مال خرچ کرو اور کس کے لئے خرچ کرو اپنے نفسوں کے لئے۔ اپنے نفسوں پر مال خرچ کرو یہ ترجمہ بن جائے گا ۔ میرے ذہن میں اس کے دو تین مختلف معانی تھے جو آج میں نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے کہا کہ جو اہل علم کی پرانی کتابیں ہیں سیبویہ وغیرہ ان کو نکالیں اور مجھے یقین ہے کہ بالکل درست ثابت ہوں گے اور وہی ہوا۔ ہر بات جو امکا نا سوچی تھی ان کے معنوں کی وہ تمام باتیں پرانے مفسرین اور اہل علم کی کتابوں سے نکل آئی ہیں اس کو مختلف معنی دے کر پہلوں کا بھی رجحان اسی طرف گیا تھا۔ کہ اس کا یہ ترجمہ اچھا معلوم نہیں ہوتا کہ مال خرچ کرو اپنے لئے“۔ اس کا یہ ترجمہ اچھا لگتا ہے کہ خرچ کرو خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ جس میں وہ ایک فعل محذوف مانتے ہیں کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا اور کان خبر منسوب آتی ہے اس میں جو زبردستی دکھائی دیتی ہے وہ نصب ہے اور یہ کان کی خبر ہوتی ہے چنانچہ اس فعل کو مختلف شکلوں میں محذوف مانا گیا اور بعضوں نے یہ ترکیب کی کہ کوئی اور فعل ہے جیسے ضرور خرچ کرو، اسی قسم کا معنی کوئی بیچ میں یا أَنْفِقُوا ۔ انفاق یعنی خرچ کرنا جو ہے یہ