خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 118
خطبات طاہر جلد 14 118 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء ہے۔ ناروے کے امیر صاحب زیادہ دینی لحاظ سے خاص تعلیم یافتہ آدمی نہیں ہیں لیکن انکسار ہے اور اطاعت کا بڑا مادہ ہے۔ جو سنتے ہیں من وعن اسی طرح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سالہا سال سے، دس گیارہ سال سے تو یہاں آکے بھی دیکھ رہا ہوں کہ نارویجین زبان میں قرآن کا ترجمہ نہیں ہو رہا تھا۔ مشکل یہ تھی کہ وہ جو ایک مخلص نارویجین جن کے اخلاص میں کوئی شک نہیں وہ دوسرے کاموں میں اتنے مصروف، اپنی روزمرہ ذمہ داریوں کے علاوہ جماعتی خدمتوں میں بھی کہ ان کے اکیلے کے بس کی بات نہیں تھی۔ دوسرے وہ محتاط بہت ہیں۔ جب تک پوری طرح مضمون نہ سمجھ آجائے وہ آگے ترجمہ نہیں کر سکتے ۔ یہ یقین پوری طرح نہیں کہ میں قرآن کے ترجمے کا حق بھی پوری طرح ادا کر رہا ہوں کہ نہیں۔ تو بہت لمبا عرصہ گزر گیا ترجمہ ہو نہیں رہا تھا۔ میں نے امیر صاحب سے کہا کہ میں جب دورے پر جاتا رہا ہوں تو میں نے محسوس کیا ہے کہ نئی ایسی نسل احمدی نو جوانوں کی لڑکوں اور لڑکیوں کی اوپر آرہی ہے جو بہت ہی اچھے زبان دان ہیں اور اردو بھی اچھی بھلی آتی ہے۔ لیکن نارویجین میں تو یہ حال ہے کہ بہت سے ایسے ہمارے بچے ہیں جو نارویجین سے ہمیشہ نارویجین زبان میں زیادہ نمبر لے جاتے ہیں اور ان کے اساتذہ بھی حیران ہوتے ہیں، ان کے والدین کو ہیڈ ماسٹرز لکھتے ہیں، عجیب قسم کا لڑکا ہے باہر سے آیا ہے اور ہمارے سارے نارویجینز کو نارویجین زبان میں Beat کر گیا ہے یا ایسی بچیاں بھی بہت ہیں۔ تو میں نے کہا اللہ نے آپ کو صلاحیت عطا فرمائی ہوئی ہے اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ طریقہ ان کو میں نے سمجھایا کہ اچھی بچیاں ، ایک ٹیم ان کی بنا ئیں، اچھے بچوں کی ایک ٹیم بنائیں ان کے ساتھ جو وہاں سے ایسے لوگ آ۔ ئے ہیں جو دینی علم رکھتے ہیں کچھ نہ کچھ اور اردو زبان پر ان کو خوب محاورہ ہے ان کی ٹیم میں ان کو داخل کریں مگر ان کے طور پر ۔ وہ ترجمہ اپنی نگرانی میں کروائیں اور پھر ان کو سننے کے بعد چھان بین کر لیں کہ واقعہ وہ مفہوم ہمارے اردو تراجم سے منتقل ہوا ہے کہ نہیں ۔ پھر مربی صاحب یا دوسرے صاحب جو علم لوگ ہیں ان کو ان پر نگران بنا ئیں وہ پھر ان کو دیکھیں۔ پھر ان کی آپس میں اکٹھی Meetings ہوں وہاں ترجمے پڑھے جائیں اور ایک دوسرے کو مشورے دیں۔ میں نے کہا یہ بہت محنت کا کام ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ہو سکتا ہے اور ایک سال کا عرصہ ان کو میں نے دیا تھا وہ چھ مہینے میں ہی مکمل کر دیا ہے اور ایسا اعلیٰ پائے کا ترجمہ کیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میں نے احتیاطاً یہاں کی جو ماہر کمپنیاں ہیں جو آئے ہوئے۔