خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 990
خطبات طاہر جلد 13 اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے ۔ 990 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی انسانی زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نصیحت فرمائی ہے کہ اے غافل ! تو اپنی عمر پر نگاہ ڈال کر غور کر، یہ نہ ہو کہ خدمت قرآن سے عاری ہی اس دنیا سے سفر کر رہا ہو اور یہ احساس بہت دیر میں پیدا ہو کہ میں پیدا ہوا ، بڑا ہوا، اللہ تعالیٰ کے احسانات سے فائدے اٹھائے اچھی زندگی گزر گئی مگر خدمت قرآن کی توفیق نہ ملی۔ ہر شخص کی سوچ کے مطابق ان زندگی کے جوڑوں پر جہاں ایک دور دوسرے دور میں داخل ہو رہا ہوتا ہے انسان کو مختلف قسم کے خیالات آتے ہیں مختلف قسم کے تصور اس کے دل سے ابھرتے ہیں اور سب سے اچھا وہی تصور ہے جو خدا کی طرف مائل کرنے والا ہو، جو نیکیوں کی طرف توجہ دلانے والا ہو، آئندہ سال اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے محمد اور معاون ثابت ہو۔ پس اس پہلو سے میں اگر چہ عام دنیا کے دستور کے مطابق بھی سب عالمگیر جماعت کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اللہ آپ سب کے لئے یہ نیا سال مبارک فرمائے لیکن خصوصیت کے ساتھ اس نصیحت پر عمل پیرا ہونے کی ہدایت کرتا ہوں کہ ابھی جو وقت باقی ہے اس میں اپنے نفس کا جائزہ لیتے ہوئے ، غور وفکر کرتے ہوئے ایسی باتیں اس رنگ میں سوچیں کہ آپ کے دل میں آئندہ کے لئے بہتر زندگی گزارنے کی تحریک پیدا ہو اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ جو اپنے نفس کا جائزہ ہے یہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے اندر بہت سی پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔ ہر شخص کا اس میں شامل ہونا ضروری ہے ورنہ جماعتی نصیحتیں جب کی جاتی ہیں کہ فلاں کام کرو تو ساری جماعت من حيث الجماعت اپنے آپ کو ایک وجود بجھتی ہے اس کا ایک اچھا پہلو بھی ہے۔ آپس کے تعلق ایسے ہوتے ہیں جیسے ایک بدن کے اعضاء کے ہوں لیکن اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ باقیوں نے جب کر لیا ہے تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے۔ جماعت من حيث الجماعت یہ کام کر ہی رہی ہے ہم نے آواز پر لبیک کہہ دی اور اچھے نتائج پیدا کر لئے ۔ یہ سوچ ایک اچھی بات کا منفی پہلو ہے یعنی ساری جماعت کا یہ احساس کہ ہم ایک ہی بدن کے مختلف حصے ہیں اور ایک کی خوشی دوسرے عضو تک منتقل ہونا اس بدن کی زندگی کی علامت ہے اسی طرح ایک کا غم دوسرے عضو بدن تک منتقل ہونا بھی اس کی زندگی کی ہی علامت ہے مگر یہ سوچ اگر باشعور ہو اور تقویٰ کے ساتھ