خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 981 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 981

خطبات طاہر جلد 13 981 خطبه جمعه فرموده 23 دسمبر 1994ء عیسائیت کا حلیہ بگاڑا ان پر افسوس کرتے ہیں تو تمہیں کیا حق ہے کہ ان ظالموں کو جو تمہارے ہاں بھی بہت کثرت رت سے پیدا ہوئے جب وہ اسی حلیے میں اسلام میں سر اٹھاتے ہیں تو ان کی ذمہ داری داری اسلام پر ڈال دیتے ہو۔ جو منہ کالا انہوں نے اپنا کیا ہے ان کی سیاہی اسلام کے منہ پر پھیرنے لگ جاتے ہو۔ اب یہ اس کو مستقل مضمون تو نہیں بنایا جا سکتا لیکن جہاں جہاں یہ جھلکیاں نظر آئیں وہاں اس بنایا جا سے ملتا جلتا تبصرہ آسکتا ہے اور اچھے طریق پر آسکتا ہے تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے غلطی سے کہ ہم ان کے داغ کھول رہے ہیں بلکہ ایک چلتی ہوئی تاریخ کا حصہ ہے اس سے سبق لے رہے ہیں ۔ پھر قرآن کریم نے بار باران جگہوں کا ذکر فرمایا ہے جو قوموں کے لئے عبرت کا نشان ہیں ان عبرت کی جگہوں کی تلاش اور ان سے تعلق والے واقعات کو اجاگر کرنا اور ہر قوم میں ایسی عبرت گاہیں موجود ہیں جہاں کوئی قوم کسی عروج کے بعد زوال پہ پہنچی ہے اور اس کے پیچھے کوئی ایسی داستان ضرور ہے جس میں اس نے خدا تعالیٰ کی توحید سے منہ موڑا ہے اور شرک میں مبتلا ہوئی ہے اور پھر اس پہ یہ سزا وارد ہوئی ہے ۔ قرآن کریم نے اس مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ (الروم :(42) دنیا میں سیر کرو اور دیکھو ، مکذبین کی اور ان لوگوں کی کیسی عاقبت تھی اور ساتھ فرمایا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِین ان میں سے اکثر مشرک تھے۔ یہ مضمون کے لحاظ سے بعینہ یہی بیان فرمایا ہے۔ تو معلوم یہ ہوگا کہ دنیا کی تاریخ میں اکثر جگہ جہاں بھی آپ کو عبرت گا ہیں دکھائی دیں گی اس سے پیچھے ایک شرک کی تاریخ ہو گی اور وہ لوگ جو دفن ہوئے ہیں وہ ضرور مشرک ہوں گے۔ پس پومپیائی ہو، پومپے ہو یا جو بھی آپ اس کو کہیں یا دوسرے ایسے عبرت کے مقام جہاں بڑی تو میں اپنے عروج کے بعد زیر زمین دفن ہو گئیں ان کی تاریخ جب یہ نکالتے ہیں تو شرک کے نشانات وہاں ملتے ہیں ۔ اب لاڑکانہ ہی میں جو پرانی تہذیب دفن ہے موہنجوداڑو یعنی موت کی ڈھیری یا موت کا ٹیلہ، وہاں سے بھی شرک کے آثار نکل رہے ہیں اور ان آثار کو دیکھ کر یہ مغربی محققین یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس زمانے میں شرک ہی شرک تھا اور تھا ہی کچھ نہیں حالانکہ یہ اس وقت ہلاک ہونے والی قومیں ہیں جب وہ بڑے لمبے سفر طے کر کے اپنے تمدن کے عروج کو جا پہنچی تھیں اور اس وقت ہوا جب وہ مشرک ہو چکی تھیں ۔ ان کا آغاز اور تھا اور انجام اس وقت ہوا جب وہ مشرک ہو چکی