خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 964 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 964

خطبات طاہر جلد 13 964 خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 1994ء چکھی ہی نہیں تھی کہ اتنے میں اس کا سیکرٹری یا مال کا منتظم بولا کہ سرکار آپ اس دال کی طرف نہ جائیں اس ظالم نے اتنا خرچ کر وا دیا ہے کہ بہت مہنگا ڈش بن گیا ہے۔ تو نواب صاحب نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ کیا حرکت ہے۔ کہتے ہیں اس نے دال کا پیالا اٹھا کر باہر ایک ٹھنڈ درخت تھا اس پر پھینک دیا اور کہا کہ یہ منہ اور مسور کی دال یعنی مسور کی دال کھانے والے بھی تو منہ ہونے چاہئیں دیا اور د تمہیں تو یہ بھی توفیق نہیں ۔ کہانی میں لطیفے کے طور پر بتایا جاتا ہے کہ وہ سوکھا ہوا درخت جہاں جہاں دال پڑی وہاں سے ہرا ہو گیا۔ تو کھانا پکانے کا سلیقہ ہوتا ہے یہ سلیقے سکھانے ہیں ۔ سبزیوں کا موسم آتا ہے تو بعض سبزیاں بہت سستی ہو جاتی ہیں ۔ ہٹ کر خریدیں تو عام سبزیاں بھی اتنی مہنگی ہوتی ہیں کہ ہاتھ نہیں پڑ سکتا ۔ جب غریبوں کو آپ سبزیوں کا کہیں گے تو انہیں یہ بھی بتائیں کہ اچھے موسم میں بھرے ہوئے موسم میں جب سبزیاں پھینکی جا رہی ہوں ۔ اس وقت آپ خشک کر کے ان کو کس طریقے سے سنبھال سکتے ہیں کہ دوسرے وقت میں آپ کے کام آئیں۔ اس کا بھی ایک با قاعدہ پروگرام بنا کر اس پر عمل درآمد ور ماہرین کو اس میں محنت کرنی پڑے گی جو فوڈ کے ماہرین ہیں مثلاً کھانے کے فن ۔ سے رکھنے والے سائنس دان جماعت میں ملتے ہیں ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ پھر مختلف سبزیاں کس طرح پیش کی جاسکتی ہیں۔ اب کریلے کو اس طرح بھی پکایا جا سکتا ہے کہ سارا گھر کڑوا ہو جائے اور اس طرح بھی پکایا جا سکتا ہے کہ اس کے مزے سب موجود ہوں ۔ کڑواہٹ صرف اتنی ہو کہ یادر ہے کہ کریلا ہے۔ تو یہ کیوں نہ سکھائیں ہم سب کو چٹنیاں بنانی کیوں نہ سکھائیں ۔ تو یہ وسیع پروگرام ہے جس پر عمل درآمد شروع ہو رہا ہے۔ اب ان کے ترجموں کی کچھ مشکل ہے۔ نہ ابھی تک ہو میو پیتھک کی کلاسز کے پروگراموں کے ترجمے ہو سکے ہیں پورے، نہ روزمرہ کے گھنٹوں کے پروگراموں کے ایسے ترجمے ہو سکتے ہیں کہ انہیں مستقل ہر زبان میں جاری کیا جاسکے ۔ اس پروگرام کے ترجمے کی ضرورت پیش آئے گی پھر ان میں افریقن پروگرام بھی چاہئیں اور چائنیز پروگرام تو یہاں ہی ہو جائیں گے لیکن افریقہ کے مختلف ملکوں کو یا فارایسٹ میں جو ہمارے احمدی پھیل رہے ہیں۔ جن ممالک میں ان کے کھانوں کے انڈونیشیا کے کھانوں کے پروگرام بھی ہونے چاہئیں ۔ تو آپ سب لوگوں کو بہت کام کرنا ہے اپنے اپنے ملکوں میں پروگرام بنائیں اور وہ اور وہ بھجوائیں