خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد 13 89 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء کیونکہ دائمی دعوت خدا ہی کی طرف ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی اللہ ہی کی طرف با بلاتے تھے۔ پس دعوت الی اللہ اسی لئے قرآن سے محاورہ لے کر اسی مہم کا نام رکھا گیا کہ اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔ اللہ کی طرف بلائیں تو بحثوں اور دلیلوں سے بہت زیادہ اس کے حسن اور اس کی کشش سے کام لیں ۔ جس کی طرف بلایا جاتا ہے اس کا تعارف بھی تو کروانا پڑتا ہے۔ کس کی طرف بلا رہے ہیں؟ اگر آپ جاتے ہی ان بحثوں میں مبتلا ہو جائیں کہ تم اپنے عقائد میں سچے ہو یا میں اپنے عقائد میں سچا ہوں۔ ایک لمبے عرصے کے بعد ان ذریعوں ہی سے بعض دفعہ انسان کو کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو متقی ہیں جو اللہ کی محبت رکھتے ہیں۔ اگر وہ سچے دل سے اللہ کی طرف آنے کی دعوت دیں تو یہ بہت زیادہ کارگر حربہ ہے۔ بہت اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ میں نے بارہا ہندوؤں پر یہ نسخہ آزمایا ہے۔ وہ بعض دفعہ ملنے آتے ہیں بعض دفعہ خطوں کے ذریعے دعا کی خاطر لکھتے ہیں۔ تو میں ان کو صرف توحید کا پیغام دیتا ہوں۔ کبھی یہ بحث نہیں کی ویدوں میں یہ لکھا ہے اور تمہاری گیتا میں یہ لکھا گیا ہے اور قرآن یہ فرماتا ہے۔ ان بحثوں میں الجھا دیں گے ہو تو ان کی غیرت بھی اٹھ کھڑی ہوگی۔ اور رفتہ رفتہ ایک مدافعانہ رنگ پیدا ہو جائے گا۔ قرآن کریم فرماتا ہے جب وہ مدافعانہ رنگ اختیار کریں، جھگڑیں تو تم بھی ان سے مجادلہ کرو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ مگر سب سے احسن ، سب سے اعلیٰ طریق ، سادہ طریق پر اللہ کی طرف بلانا ہے۔ اور اس میں صرف ہندو ہی پیش نظر نہیں، تمام اقوام ، تمام مذاہب سے وابستہ لوگوں کے لئے ، سب سے اچھا پیغام یہی ہے کہ ہم تمہیں اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ کی خاطر اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرو اللہ کی طرف جھکو اس سے دعائیں مانگو اور اگر تم ہمیں بد سمجھ رہے ہو تو اللہ سے دعا کرو کہ ہمیں بھی صحیح سچ رستہ عطا ہو۔ اور اگر ہ سچے ہیں تو اللہ سےدعا کرو کہ تم میں بھی اس رستے پر ڈال دے۔ یہ طریق ہے جو تبلیغ کا اس سے کوئی اشتعال بھی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس سے اشتعال ٹھنڈے پڑتے ہیں۔ طبیعت میں کچھ سلجھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ انسان زیادہ سنجیدگی سے غور پر آمادہ ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے جتنے بھی ہندوؤں سے مجھے واسطہ پڑا ہے۔ جب میں نے انہیں توحید کی طرف بلایا ہے تو طبعی طور پر ان کا رد عمل مثبت تھا ۔ کبھی بھی مخالفانہ رد عمل نہیں ہوا۔ اور کئی ایسے ہیں جو اللہ کے فضل سے جماعت میں داخل ہو چکے ہیں کئی ایسے ہیں جو ابھی داخل نہیں ہوئے لیکن دعا کے