خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 943
خطبات طاہر جلد 13 943 خطبه جمعه فرموده 19 دسمبر 1994ء ہیں، بد تمیزی اور بداخلاقی کے ہتھیار ہیں ، ان سے بعض بد نصیب اس زمانے میں بھی آنحضرت صلى الله من عصى پر حملہ کر دیا کرتے تھے اور نظام پر حملہ کیا کرتے تھے۔ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یہ فرمانا پڑا کہ من ۔ امیری فقد عصانی و من عصاني فقد عصى الله ( مسلم کتاب الامارہ حدیث نمبر : 3416) جس نے میرے امیر سے نافرمانی کا طریق اختیار کیا ہے اس نے مجھ سے نافرمانی کا طریق اختیار کیا ہے، تو وہی مجھ سے کاٹنے والا مضمون بالکل کھل کر سامنے آگیا۔ یعنی یہ مراد نہیں کہ تم براہ راست مجھ پر حملہ آور ہو۔ یا درکھو جو میرے مقرر کردہ نظام پر حملہ کرتا ہے اس سے بھی میرا تعلق کٹ جاتا ہے، میں اس کا نہیں رہتا۔ تو بعض لوگ یہ کہتے ہیں جی ہم تو فلاں عہد یدار کو کہہ رہے ہیں، فلاں شخص کو کہہ رہے ہیں، آپ کو تو نہیں کہہ رہے۔ تو ان کو میں یہی جواب دیتا ہوں کہ مجھے کہیں یا نہ کہیں رسول اللہ کی بات میں مانوں گا، آپ یہ محسوس کیا کرتے تھے اور دیکھیں حمایت کتنی بڑی ہے۔ اپنے مقرر کردہ عہدیدار کے حق میں نا انصافی کا تعلق تو آپ کا تھا ہی نہیں کسی کی مجال نہیں تھی کہ کسی کا حق مارے اور رسول اللہ ﷺ اس کی حمایت فرمائیں۔ یہاں حمایت کا مضمون بتا رہا ہے کہ وہ شخص جس پر لوگ زبانیں دراز کرتے ہیں باوجود اس علم کے میرا مقرر کردہ ہے وہ مجھ پر زبان دراز کرتا ہے۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے زیادتی کی ہے۔ اگر الله زیادتی ہے تو اس کا علاج موجود ہے زیادتی کی اطلاع اس کو کرنی چاہئے جس نے مقرر کیا ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ یہ نکتہ اس طرح کھولا کہ بعض وہ لوگ جو پیغامی ذہنیت رکھتے تھے اور بعد ے اور بعد میں فتنے کے بعد بعد کھل کر پیغامیت میں داخل ہو گئے ۔ ان لوگوں میں سے بعض نے حضرت خلیفہ مسیح الاول پر بھی اعتراض کئے اور کہا کہ یہ دیکھو یہ تو بوڑھا ہو گیا ہے۔ اس کو پتا ہی نہیں چل رہا کہ اچھا کون ہے اور برا کون ہے۔ نا جائز حمایت کر رہے ہیں ایک نوجوان کی ( حضرت مصلح موعود مراد تھی ) تو اس قسم کی باتیں جب حضرت خلیفہ مسیح الاول کو پہنچیں تو آپ تو آپ نے فرمایا۔ دیکھو تم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا ہے اب تم میں اختیار ہی نہیں ہے کہ میرے اوپر زبانیں دراز کرو۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ بڑھا اس عمر میں آکر اپنا توازن کھو بیٹھا ہے، غلط کام کر رہا ہے۔ تو جس نے مجھے بنایا ہے اس کے پاس شکایت کرو۔ اگر تم سچے ہو تو مجھے وہ واپس بلا لے گا لیکن تمہیں حق نہیں دے گا کہ تم زبانیں کھولو اور تم میرے سامنے گستاخی سے پیش آؤ۔ اب کتنا اہم نکتہ ہے اور کتنا گہرا نکتہ ہے جو صرف خلافت سے تعلق نہیں رکھتا پورے نظام جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔