خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 929
خطبات طاہر جلد 13 929 خطبه جمعه فرموده 9 دسمبر 1994ء ابھی باقی ہے کیونکہ وہ در حقیقت منافع کے نام پر سود خوری تھی ۔ اگر اس کو واقعہ دیانت داری سے تجارتی قرضہ سمجھتے تھے یا سمجھتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ نکلے گا کہ وہ شخص جو تقریبا کنگال ہوا بیٹھا ہے وہ ان کا دیندار ہی نہیں بنے گا کیونکہ تجارت کے معاملات اور ہیں اور سود کے معاملات اور ہیں ۔ اگر آپ منافع کہنے پر مصر ہیں تو جس شخص کے پاس اپنی رقم منافع اور تجارت کے لئے لگائی تھی اگر اس کا مال ڈوب گیا ہے تو آپ کا بھی ڈوب گیا ہے، وہ الگ اوپر کھڑا نہیں رہا اس کے ساتھ ہی ڈوبا ہے وہ بھی ، اس لئے وہ دین دار ہی نہیں بنتا۔ اسی لئے دونوں طرف پاؤں رکھنے کی کوشش کر کے اپنی دیانتداری کے حوالوں کے ساتھ ہم نے بڑی محنت سے حق حلال کی کمائی کی تھی ہماری جو یہ شخص ظالم لے کے بیٹھ گیا ہے۔ تو ظالم سے پوچھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اتنا وہ سود دے بیٹھا ہے منافع کے نام پر اور ابھی پوری رقم اور اس کے اوپر مطالبے جاری ہیں ۔ تو میں ایسے لوگوں کو کہا کرتا ہوں کہ قضاء میں جاؤ اور قضاء سے فیصلہ کرواؤ کہ یہ کیا چیز تھی ۔ اگر تم مصر ہو کہ یہ تجارت تھی تو لازماً تمہیں اس نقصان میں شریک ہونا پڑے گا جس کو تم کہتے ہو اس نے قرض لیا تھا کیونکہ پھر تجارتی قرضے میں نفع نقصان کا انسان ذمہ دار ہوتا ہے اور اگر یہ سود تھا تو یہ حرام کیا ہے اور زیادہ سے زیادہ تمہیں اصل زر دلوایا جا سکتا ہے لیکن چونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اصل زر تک معاملہ پھر رہے گا اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لیکن جس کو تم نے منافع کے نام پر لیا تھا وہ اصل زر کی واپسی شمار ہوگی۔ تو اس قسم کے جھگڑے جو نیتوں کی خرابیوں سے تعلق رکھتے ہیں تحریر میں نہیں آرہے ہوتے ان سے بہت نقصان پہنچے ہیں اور جہاں تک عام روزمرہ کا دستور ہے جس شخص میں قرض کی ادائیگی کی توفیق ہے اسے ضرور قرض ادا کرنا چاہئے اور لیت و لعل کرنا اور ٹالنا یہ بہت بڑے گناہ کی بات ہے اور اس سے ساری سوسائٹی میں ضرورت رورت مند مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ یہ سوسائٹی کا اعتماد ہے جس کے نتیجے میں معاملات میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایک سوسائٹی کے متعلق یقین ہے کہ یہاں قرضے واپس کئے جائیں گے، حسب توفیق واپس کئے جائیں گے اور سوسائٹی کا نام نیک ہو جائے تو پھر بڑی سہولت اور آسانی کے ساتھ غریبوں کی ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں اور وہ ضرور واپس کرتے ہیں اور اس میں امارت اور غربت کا فرق نہیں ہے، دل کی شرافت کا فرق ہے۔ بعض ایسے غریب لوگ ہیں اور ایسی غریب قومیں ہیں جن کا بمشکل گزارہ ہو رہا ہوتا ہے