خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 907
خطبات طاہر جلد 13 907 خطبه جمعه فرموده 2 دسمبر 1994ء حضرت محمد رسول الله علیہ کے خلق لے کر چلیں تو فتح آپ کے قدم چومے گی۔ تمام دنیا کی فتح کار از آپ کے حسن خلق میں ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده 2 دسمبر 1994ء بمقام مسجد فضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی ۔ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْتُكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ اتقكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات: 14) فرمایا:۔ اسلامی معاشرہ کی جو تصویر قرآن کریم نے مختلف مقامات پر کھینچی ہے اور جس پر حضرت محمد مصطفی نے واضح عمل کر کے دکھایا۔ اس میں جو سب سے نمایاں قابل ذکر بات ہے وہ یہ ہے کہ تمام قسم کے کینوں اور بغضوں کو اس سوسائٹی سے الگ کر کے پھینک دیا گیا اور ہر طرح سے ان کے نفوس کو گویا آسمان کے پاک پانی سے دھو کر صاف کر دیا گیا اور پھر اس کی جگہ وہ پاکیزہ پودے لگائے گئے جن کا نام تقویٰ ہے اور جب تک پہلے یہ صفائی نہ ہو اس وقت تک تقویٰ کا پودا دلوں کی سرزمین پر لگ ہی نہیں سکتا۔ یہی مضمون ہے جو قرآن کریم نے مختلف صورتوں میں بیان فرمایا، مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے کھولا اور یہ جو ایک دوسرے پر فضیلت کے دعوے کرنا ہے، ایک دوسرے پر اپنی قومی برتری ثابت کرنا اور دوسرے کو حقیر دیکھنا ہے یہ بھی وہی رجحانات ہیں جو تقوی کی جڑوں کے ہیں جو کی