خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 828 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 828

خطبات طاہر جلد 13 828 خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1994ء میرا سابقہ دستور ہے جو سب مجالس کے علم میں ہے کہ UK میں جتنے بھی ذیلی مجالس کے اجتماعات ہوتے ہیں ان کا افتتاح میں امیر صاحب UK سے کرواتا ہوں اور اگر وہ نہ ہوں تو ہمارے امام صاحب جو نائب امیر بھی ہیں اور دوسری تقریبات میں حصہ لیتا ہوں۔ تو اول تو میں کسی وجہ سے اس دستور کو بدلنا نہیں چاہتا تھا ورنہ ہر مجلس کی طرف سے مجھ پر یہی دباؤ ہو گا اور یہی مطالبہ ہوگا کہ انصار اللہ کے اجتماع میں آپ نے اس دستور کو بدلا ہے تو ہمارے معاملہ میں کیوں یہ سوتیلے پن کا سلوک ہے، ایک تو یہ وجہ تھی ۔ دوسرے یہ کہ ان کا اصرار اس لئے تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ اپنے اجتماع کی حاضری بڑھانا چاہتے تھے اور یہ اطلاع دے بیٹھے تھے سب کو کہ ضرور جمعہ سے پہلے پہنچ جائیں کیونکہ خلیفہ مسیح افتتاح کریں گے۔ یہ درست ہے کہ اگر کسی مجلس میں خلیفہ اسح شامل ہوں پہلے بھی یہی رہا ہے آئندہ بھی یہی رہے گا تو ظاہر بات ہے کہ اس اجتماع کی حاضری بڑھ جاتی ہے لیکن اسے حاضری کو بڑھانے کا ذریعہ بنا کر سالانہ رپورٹ کا معیار بڑھانا یہ جائز نہیں ہے۔ خدام کی حاضری ہو، لجنات کی ہو یا انصار کی ہو وہ سال بھر کی کوششوں کا آئینہ دار ہونی چاہئے ۔ اگر تمام سال کوشش کر کے مجلس انصار اللہ میں ایک مستعدی پیدا کر دی جائے اور جماعت کے کاموں میں حصہ لینے کا ذوق وشوق بڑھایا جائے اور اس طبعی جوش اور ولولے کے نتیجے میں لوگ کثرت سے اجتماعات میں شامل ہوں تو اچھی با برکت بات ہے اور قابلِ تحسین ہے۔ مگر یہ نہ ہو تو خلیفہ وقت کو ذریعہ بنا کر اس دن کی حاضری بڑھانا یہ کوئی نیک ، اچھی بات نہیں ہے۔ اس لئے وہ سمجھیں یا نہ سمجھیں یہ بات میں اشارہ ان کی دل آزاری کئے بغیر سمجھانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ بات پہنچی نہیں ۔ اس لئے اب میں ساری دنیا کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک طبعی بات ہے کہ اگر کوئی شخص جو کسی بڑے علاقے سے تعلق رکھتا ہو کہ اس کی خاطر لوگ آئیں اس کے آنے پر لوگوں کا آنا ایک طبعی بات ہے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ مگر کسی ایک دن اس کو بہانہ بنا کر اپنی حاضری بڑھا لینا یہ اچھی کارکردگی کی علامت نہیں ہے۔ اس لئے انصار ہوں یا لجنات ہوں یا خدام ہوں ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ سالانہ تربیت کے معیار کو بڑھائیں یہاں تک کہ کسی ایک شخص کی خاطر نہیں بلکہ روز مرہ کی تربیت کے نتیجے میں ، دینی اغراض کی خاطر ، تمام ذیلی تنظیموں کے ممبر خدا کو راضی کرنے کے لئے دینی اغراض کی خاطر اکٹھے ہوا کریں۔ یہ جو خلیفہ وقت کے ساتھ تعلق ہے یہ بھی ایک دینی غرض ہے مگر ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔ روزمرہ