خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 75
خطبات طاہر جلد 13 75 خطبه جمعه فرمودہ 28 جنوری 1994ء زندگی میں سرور ولطف ہے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کیفیت کو ایک معمولی ابتدائی بیماری قرار نہیں دیا۔ فرمایا ہے توجہ کرو کہ تمہارے نفس میں دنیا کا زہر گھل گیا ہے اور تمہاری رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے اس کے نتیجے میں یہ کیفیت پیدا ہوئی ہے جس کو تم معمولی سمجھ رہے ہو اور اسے دور کرتے کرتے وقت لگے گا۔ محنت لگے گی ، توجہ کرنی ہوگی ، خدا سے عاجزانہ دعائیں کرنی ہوں گی ۔ آنا فانا تو کینسر ٹھیک نہیں ہو جایا کرتے ۔ بعض مریض مختلف قسم کی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور نسخہ ایسا مانگتے ہیں کہ ادھر نسخہ منہ کے اندر گیا اور نسخہ کا تیار کردہ جو بھی محلول ہے اور اسی وقت شفا ہوگئی۔ بعض دفعہ اتنے لمبے عرصے تک ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہیں اور شفا کے متلاشی کو اگر وہ دعا بھی ساتھ کرے شفا مل بھی جایا کرتی ہے اور کبھی نہیں بھی ملتی مگر دنیا میں بھی شفا اس وقت نہیں ملتی جبکہ مرض حد سے گزر چکا ہو اور توجہ عارضی ہو جو اس کے مقابل پر اتنی طاقت نہ رکھتی ہو۔ روحانی دنیا میں بھی یہی حال ہے۔ ایک عدل کا نظام ہے جو جاری و ساری ہے پس جتنی کمزوری ہے اتنی شدت کے ساتھ اس کے مقابلے کے لئے ذہن اور روح اور دل کو بیدار ہونا پڑے گا اور بڑی فراست کے ساتھ اس بیماری کو پہچاننا ہو گا اور اس کے مقابل پر کوئی نسخہ تجویز کرنا ہو گا اور سب سے پہلے ہر نسخے کا آغاز دعا سے ہونا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہی ذکر کر رہے ہیں اس کو پھر غور سے سنئے۔ میں گنہگار ہوں اور اس قدر گناہ کے زہر نے میرے دل اور رگ وریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں رہا۔“ کتنے لاکھوں کروڑوں عبادت کرنے والے ہیں جو بے چارے اسی کیفیت میں سے گذر رہے ہیں ان کو پتہ نہیں کہ ہماری کیفیت ہے کیا ؟ ” میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تا کہ اس کے ذریعے سے میری سخت دلی دور ہو کر حضور نماز میسر آوے۔“ پس سب سے بڑا اور موثر نسخہ اپنے نفس کی شناخت اور اس شناخت کے بعد دعا ہے ورنہ خالی دعا اگر سکھا دی جائے تو انسان منہ سے باتیں کرتا رہتا ہے اس کو پتا ہی نہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور جس طرح وہ باتیں اس کے دل پر اثر نہیں کر رہی ہوتیں اللہ پر بھی اثر نہیں کرتیں ، آپ کے دل